خلوص پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیں
Yas Chandpuri (b. 1930)خلوص پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیں
دلوں کے بیچ وہ پہلا سا رابطہ بھی نہیں
ہمارا ان کا کوئی اب تو واسطہ بھی نہیں
کچھ اس طرح سے الگ ہیں کہ تذکرہ بھی نہیں
میں دیکھتا ہوں تماشہ وہ کھنچ رہے ہیں بہت
کمال یہ ہے کشیدہ معاملہ بھی نہیں
عجب سکوت ہے طاری خموش ہیں دونوں
نہ ان کو کوئی شکایت مجھے گلہ بھی نہیں
اب ایسے موڑ پہ آکر الگ الگ ہیں کھڑے
قریب تر بھی نہیں اور فاصلہ بھی نہیں
نہ روشنی نہ اندھیرا عجیب منظر ہے
طلوع صبح نہیں شام اب سیہ بھی نہیں
سنے تو کوئی ذرا ہوش و گوش سے اک دن
ہماری بات کا مفہوم بد مزہ بھی نہیں
کسی سے کوئی شکایت نہیں یہ دل میرا
جو خوش نصیب نہیں ہے تو غم زدہ بھی نہیں
بتائے یاسؔ کہ اس دل کو کس سے دیں تشبیہ
نہیں ہے سنگ صفت تو گداختہ بھی نہیں