آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیا

Balraj Hairat (1930–1995)

آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیا

میرا ہنسنے کا ارادہ کیا غضب ڈھا کر گیا

میں نے برساتوں میں جلتے گھر کبھی دیکھے نہ تھے

میں اسی باعث ترے غم کو گوارا کر گیا

میری کوشش تھی مقدر کو نئی جہتیں ملیں

اور اسی کوشش میں خود کو بے سر و پا کر گیا

خوش یقینی بھی کھلا دیتی ہے کیسے کیسے گل

ایک دن واللہ میں خود پر بھروسا کر گیا

بات اصولوں کی نہیں ہے بات کچھ قدروں کی ہے

خواب جھوٹے تھے مگر میں ان کو سچا کر گیا

بس یہی صورت چھپانے کی انہیں نکلی کہ میں

ہر کسی کے سامنے زخموں کو ننگا کر گیا

مدتوں میری حیات امید کا محور رہی

پھر کوئی شخص آ کے حیرتؔ سب کچھ الٹا کر گیا