تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں

Ghani Ejaz (1929–2010)

تھکن غالب ہے دم ٹوٹے ہوئے ہیں

سفر جاری قدم ٹوٹے ہوئے ہیں

بظاہر تو ہیں سالم جسم و جاں سے

مگر اندر سے ہم ٹوٹے ہوئے ہیں

ادھورے ہیں یہاں سارے کے سارے

سبھی تو بیش و کم ٹوٹے ہوئے ہیں

برا ہو اعتماد باہمی کا

کہ سب قول و قسم ٹوٹے ہوئے ہیں

تعلق ٹوٹنے کو ہے جہاں سے

چلو کہ بند غم ٹوٹے ہوئے ہیں

خدا کا گھر نہ بخشا ظالموں نے

کئی دیر و حرم ٹوٹے ہوئے ہیں

انہیں منصف نہیں قاتل کہو تم

کہ سب ان کے قلم ٹوٹے ہوئے ہیں