Poetry
Poet
Meter
- کوئی ہم راہ نہیں راہ کی مشکل کے سواحاصل عمر بھی کیا ہے غم حاصل کے سواGhani Ejaz (1929–2010)
- مسرت کی فراوانی کے دن ہیںمحبت کی جہاں بانی کے دن ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہولذت کش حیات وفا بے خودی نہ ہوDaud Nishat (1929–1992)
- روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلےاس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلےDaud Nishat (1929–1992)
- زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیںموت کے آغوش میں وہ مسکرا سکتا نہیںDaud Nishat (1929–1992)
- سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیںیہ ایک مرگ مسلسل ہے انتظار نہیںDaud Nishat (1929–1992)
- کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھےڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھےDaud Nishat (1929–1992)
- لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئےمنزل قریب آئی تو رستے بدل گئےDaud Nishat (1929–1992)
- مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہےمحسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہےDaud Nishat (1929–1992)
- محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میںگم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میںDaud Nishat (1929–1992)
- مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوںہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوںDaud Nishat (1929–1992)
- وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہوناہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہوناDaud Nishat (1929–1992)
- اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیںپردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیںEhsan Jafri (1929–2002)
- بتا منزل شوق کیا ہو گیامری کوششوں کا صلہ کھو گیاEhsan Jafri (1929–2002)
- تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتےبے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتےEhsan Jafri (1929–2002)
- تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہےبزم خواب محبت سجاتے رہےEhsan Jafri (1929–2002)
- جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اورغیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اورEhsan Jafri (1929–2002)
- درد دل میں مقیم کس کا ہےکام یہ ہے عظیم کس کا ہےEhsan Jafri (1929–2002)
- زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے باتیہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے باتEhsan Jafri (1929–2002)
- زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئےبے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئےEhsan Jafri (1929–2002)
- زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہےآرزو حسن زمیں کی گوشۂ غافل میں ہےEhsan Jafri (1929–2002)
- غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوںبے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوںEhsan Jafri (1929–2002)
- آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گےاتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- راز یہ سب کو بتانے کی ضرورت کیا ہےدل سمجھتا ہے ترے ذکر میں لذت کیا ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- شب خون کا خطرہ ہے ابھی جاگتے رہناقاتل پس پردہ ہے ابھی جاگتے رہناRaaz Allahabadi (1929–1996)
- لذت غم بڑھا دیجئےآپ پھر مسکرا دیجئےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- ہجوم گردش دوراں ہے کیا غزل کہیےدل و دماغ پریشاں ہے کیا غزل کہیےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہےایک جام چھلکا ہے ایک جام خالی ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیںیہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیںRaaz Allahabadi (1929–1996)
- عمر جوں جوں بڑھتی ہے دل جوان ہوتا ہےرازؔ یہ حسیں غزلیں ان سفید بالوں میںRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہ میری تمنا ہے پیاسوں کے میں کام آؤںیا رب مری مٹی کو پیمانہ بنا دیناRaaz Allahabadi (1929–1996)
- جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیںکورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاںجانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلےارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- مری مشق سخن کا جب ہوا ان پر اثر زیادہمہربانی ہے ان کی مجھ پہ کم اور ہے قہر زیادہGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- ہے یہی دستور دنیا اور یہی دیکھا گیاپھول سے خوشبو نکلتے ہی اسے پھینکا گیاGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کوتم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
- اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیااچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہےتو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
- بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلاکھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلاMustafa Zaidi (1930–1970)
- بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤہمیں تو مے کدے تک چھوڑ آؤMustafa Zaidi (1930–1970)
- بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میںاترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیںخلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیںMustafa Zaidi (1930–1970)
- تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرحMustafa Zaidi (1930–1970)
- جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئیMustafa Zaidi (1930–1970)
- جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیاشاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہMustafa Zaidi (1930–1970)
- درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھاآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھاMustafa Zaidi (1930–1970)
- روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھےمیرے اشکوں سے چھپا لے مرے رخسار مجھےMustafa Zaidi (1930–1970)