Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کوئی ہم راہ نہیں راہ کی مشکل کے سواحاصل عمر بھی کیا ہے غم حاصل کے سواGhani Ejaz (1929–2010)
  2. مسرت کی فراوانی کے دن ہیںمحبت کی جہاں بانی کے دن ہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  3. جب تک کہ دل میں جذبۂ دیوانگی نہ ہولذت کش حیات وفا بے خودی نہ ہوDaud Nishat (1929–1992)
  4. روشنی کب تھی مرے داغ جگر سے پہلےاس نے پائی ہے ضیا شمس و قمر سے پہلےDaud Nishat (1929–1992)
  5. زندگی کو موت کی زد پر جو لا سکتا نہیںموت کے آغوش میں وہ مسکرا سکتا نہیںDaud Nishat (1929–1992)
  6. سکون دل کو نظر کو مری قرار نہیںیہ ایک مرگ مسلسل ہے انتظار نہیںDaud Nishat (1929–1992)
  7. کب ہوس کاروں نے دنیا کے دہانے دیکھےڈوبنے کے جو تھے دنیا میں ٹھکانے دیکھےDaud Nishat (1929–1992)
  8. لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئےمنزل قریب آئی تو رستے بدل گئےDaud Nishat (1929–1992)
  9. مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہےمحسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہےDaud Nishat (1929–1992)
  10. محدود ہے یہ وسعت عالم بھی نظر میںگم ہو گیا ہوں ایسا تری راہ گزر میںDaud Nishat (1929–1992)
  11. مرا وجود سمندر نہیں میں قطرہ ہوںہر ایک موج کی آغوش میں مچلتا ہوںDaud Nishat (1929–1992)
  12. وہ مرا کثرت انوار سے حیراں ہوناہر طرف طور بکف ان کا نمایاں ہوناDaud Nishat (1929–1992)
  13. اپنوں نے اجاڑا ہے چمن جان گئے ہیںپردوں میں چھپا کون ہے پہچان گئے ہیںEhsan Jafri (1929–2002)
  14. بتا منزل شوق کیا ہو گیامری کوششوں کا صلہ کھو گیاEhsan Jafri (1929–2002)
  15. تم اچھے مسیحا ہو دوا کیوں نہیں دیتےبے نور جو ہے شمع بجھا کیوں نہیں دیتےEhsan Jafri (1929–2002)
  16. تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہےبزم خواب محبت سجاتے رہےEhsan Jafri (1929–2002)
  17. جذبات کی شدت سے نکھرتا ہے بیاں اورغیروں سے محبت میں سنورتی ہے زباں اورEhsan Jafri (1929–2002)
  18. درد دل میں مقیم کس کا ہےکام یہ ہے عظیم کس کا ہےEhsan Jafri (1929–2002)
  19. زخموں کو میرے دل کے سجاؤ تو بنے باتیہ کام ہمیں کر کے دکھاؤ تو بنے باتEhsan Jafri (1929–2002)
  20. زندگی اک آگ ہے وہ آگ جلنا چاہئےبے حسی اک برف ہے اس کو پگھلنا چاہئےEhsan Jafri (1929–2002)
  21. زندگی تو قید ہے اور پردۂ محفل میں ہےآرزو حسن زمیں کی گوشۂ غافل میں ہےEhsan Jafri (1929–2002)
  22. غم خوار ہیں جو ان کا چلن دیکھ رہا ہوںبے چینیٔ ارباب وطن دیکھ رہا ہوںEhsan Jafri (1929–2002)
  23. آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گےاتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  24. راز یہ سب کو بتانے کی ضرورت کیا ہےدل سمجھتا ہے ترے ذکر میں لذت کیا ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  25. شب خون کا خطرہ ہے ابھی جاگتے رہناقاتل پس پردہ ہے ابھی جاگتے رہناRaaz Allahabadi (1929–1996)
  26. لذت غم بڑھا دیجئےآپ پھر مسکرا دیجئےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  27. ہجوم گردش دوراں ہے کیا غزل کہیےدل و دماغ پریشاں ہے کیا غزل کہیےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  28. یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہےایک جام چھلکا ہے ایک جام خالی ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  29. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیںیہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیںRaaz Allahabadi (1929–1996)
  30. عمر جوں جوں بڑھتی ہے دل جوان ہوتا ہےرازؔ یہ حسیں غزلیں ان سفید بالوں میںRaaz Allahabadi (1929–1996)
  31. یہ میری تمنا ہے پیاسوں کے میں کام آؤںیا رب مری مٹی کو پیمانہ بنا دیناRaaz Allahabadi (1929–1996)
  32. جب حسینوں کی تصاویر کتابوں میں ملیںکورے کاغذ ہی سوالوں کے جوابوں میں ملیںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  33. چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاںجانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  34. لکھانے نام سچے عاشقوں میں جب بھی ہم نکلےارادوں میں ہمارے جانے کتنے پیچ و خم نکلےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  35. مری مشق سخن کا جب ہوا ان پر اثر زیادہمہربانی ہے ان کی مجھ پہ کم اور ہے قہر زیادہGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  36. ہے یہی دستور دنیا اور یہی دیکھا گیاپھول سے خوشبو نکلتے ہی اسے پھینکا گیاGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  37. چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کوتم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہےGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  38. آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
  39. اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیااچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
  40. اس قدر اب غم دوراں کی فراوانی ہےتو بھی منجملۂ اسباب پریشانی ہےMustafa Zaidi (1930–1970)
  41. بجھ گئی شمع حرم باب کلیسا نہ کھلاکھل گئے زخم کے لب تیرا دریچہ نہ کھلاMustafa Zaidi (1930–1970)
  42. بزرگو، ناصحو، فرماں رواؤہمیں تو مے کدے تک چھوڑ آؤMustafa Zaidi (1930–1970)
  43. بیٹھا ہوں سیہ بخت و مکدر اسی گھر میںاترا تھا مرا ماہ منور اسی گھر میںMustafa Zaidi (1930–1970)
  44. تری تلاش میں ہر رہنما سے باتیں کیںخلا سے ربط بڑھایا ہوا سے باتیں کیںMustafa Zaidi (1930–1970)
  45. تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرحمیرا ہر شعر دمکتا ہے نگینے کی طرحMustafa Zaidi (1930–1970)
  46. جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئیمدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئیMustafa Zaidi (1930–1970)
  47. جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیاشاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
  48. چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہMustafa Zaidi (1930–1970)
  49. درد دل بھی غم دوراں کے برابر سے اٹھاآگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھاMustafa Zaidi (1930–1970)
  50. روکتا ہے غم اظہار سے پندار مجھےمیرے اشکوں سے چھپا لے مرے رخسار مجھےMustafa Zaidi (1930–1970)