پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیا

Umar Quraishi (1924–2010)

پھول وہ دے کر مجھے کانٹوں کا گلشن دے گیا

ایک لمحے کا سکوں صدیوں کی الجھن دے گیا

کم نگاہی تھی مری یا سادہ لوحی کیا کہوں

لے کے وہ سونا مرا پیتل کے کنگن دے گیا

وہ کوئی منصف نہ تھا جو دے کے میرا گھر تمہیں

صدیوں صدیوں کے لئے آپس کی ان بن دے گیا

سازشوں کی زد میں ہے شیخ حرم کی زندگی

یہ خبر چپکے سے اک بوڑھا برہمن دے گیا

مستقل رہتا ہے میرے ساتھ سائے کی طرح

ایک مبہم خوف جاں جو میرا دشمن دے گیا

ہم سفر بھی لوٹ لیتا ہے مسافر کو کبھی

یہ سبق مجھ کو عمرؔ خود میرا رہزن دے گیا