غم حیات ہے فکر معاش سے لوگو
Umar Quraishi (1924–2010)غم حیات ہے فکر معاش سے لوگو
ہمیں تو صدیوں سے اپنی تلاش ہے لوگو
میں پوچھتا نہیں دیر و حرم کے جھگڑوں کو
مجھے بتاؤ یہ کس کس کی لاش ہے لوگو
کسی کے ہاتھ میں ہیں رنگ و نسل کے پتے
کسی کے ہاتھ میں مذہب کا تاش ہے لوگو
لہو لہو ہے مری زندگی کا پیراہن
ہجوم غم سے جگر پاش پاش ہے لوگو
ہمارے دل میں ہے جو کچھ وہی زبان پہ ہے
ہمارا راز تو ہر اک پہ فاش ہے لوگو
عمرؔ کو قتل کیا ہے اسی کے بھائی نے
یہ حادثہ بھی بڑا دل خراش ہے لوگو