جسم پر اس کے اور جان پر

Rabia Barni (b. 1924)

جسم پر اس کے اور جان پر

دین و ایمان پر

فکر و ایقان پر

عقل و وجدان پر

ثبت ہیں کتنے گہرے نقوش

اس کے دنیا میں آنے سے قبل

ملک اور قوم نے

رنگ اور نسل نے

طرز و عادات نے

وقت و حالات نے

اگلی پچھلی روایات نے

اپنی ڈالی کمند

اور دنیا میں آنے کے بعد

اس کے ماں باپ نے

دوست احباب نے

قول و اقوال نے

حال و احوال نے

رسم اور ریت نے

ہار اور جیت نے

اپنا پھینکا ہے دام

ایسے ماحول میں

اس کی فکر و نظر

اس کا ذوق و ہنر

اس کا سوز دروں

اس کا ضبط و جنوں

اس کی انسانیت

اس کی یکتائیت

کیسے آزاد ہو

کیسے ٹوٹیں گے لات و منات

اس کی رفتار میں لوچ گفتار میں شہد ہے

اس کے انداز میں دلبری

اس کی آواز میں ساحری

اس کی آنکھوں میں رنگ حیا

اس کے ماتھے پہ صبر و رضا

نرم رو نرم آواز سی آب جو

اس کا دریا تلاطم سے ناآشنا

اس کی بجلی چمکتی نہیں

اس کے بادل برستے نہیں

اس کے شعلے میں حدت نہیں

اس کے جذبے میں شدت نہیں

ایک حبس دوام

زندگی گنبدوں کی صدا

کاٹھ کی پتلیوں کی طرح

جیسے چاہو نچا لو اسے

اس کا اپنا کوئی میں نہیں