وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سے
Umar Quraishi (1924–2010)وحشت کے سوا کچھ نہ ملا در بدری سے
باز آئے محبت کی ہم آشفتہ سری سے
اوروں کی طرح مجھ کو نہ دیوانہ پکارو
تم تو ہو خبردار مری بے خبری سے
غالب ہے زمانے میں اجالے پہ سیاہی
ہر سمت اندھیرا ہے تری جلوہ گری سے
ممکن ہو تو کر لیجئے وحشت کا مداوا
دامن کہیں بچ پائے گا اس بخیہ گری سے
ہم ہی نہیں تھا سارا زمانہ ترا لیکن
کچھ بھی نہ ملا تجھ کو تری کم نظری سے
ان آنکھوں کو تو نے بھی کہا نرگس بیمار
باز آئے عمرؔ ہم تو تری دیدہ وری سے