چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جا

Umar Quraishi (1924–2010)

چلائے تیر ہیں کتنے جواب دیتا جا

ہمارے زخموں کا کچھ تو حساب دیتا جا

جو آ گیا ہے تو اب دل کی تازگی کے لئے

لہو میں ڈوبے ہوئے کچھ گلاب دیتا جا

مجھے یقین ہے دریا میں ڈھونڈھ ہی لوں گا

تو میری تشنہ لبی کو سراب دیتا جا

نہ دیکھ میرے اذیت نواز لمحوں کو

مرے نصیب کا مجھ کو عذاب دیتا جا

جو تو ہے ساقئ محفل تو رند ہم بھی ہیں

ہمارے حصے کی ہم کو شراب دیتا جا

عمرؔ بتانا ہے نسلوں کو ذلتوں کا سبب

تو اپنی بزم کے چنگ و رباب دیتا جا