پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہو
Umar Quraishi (1924–2010)پیکر لالہ و گل ہے اسے پتھر نہ کہو
وہ ہے محبوب مرا اس کو ستم گر نہ کہو
یہ تو سچ ہے کہ خدا نے ہے دیا صبر مجھے
پھر بھی ایوب نہیں مجھ کو پیمبر نہ کہو
اپنی تخلیق کو بیچا نہیں کرتے فن کار
بت فروشوں کو کبھی بھول کے آذر نہ کہو
منتشر صدیوں سے ہیں تار گریباں کی طرح
ہم ہیں اوراق پریشاں ہمیں دفتر نہ کہو
دوستو کچھ تو کہو تاکہ میں خود کو جانوں
مجھ کو بد تر ہی کہو گر مجھے بہتر نہ کہو
وہ تو پاگل ہے جسے کہتے ہیں سب لوگ عمرؔ
ایسے دیوانے کو دانا و قلندر نہ کہو