فریب‌ وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کر

Umar Quraishi (1924–2010)

فریب‌ وقت نہ کر خود سری کی بات نہ کر

تو ایک لمحہ ہے مجھ سے صدی کی بات نہ کر

مصیبت و غم و افلاس و ذلت و فاقہ

یہ زندگی ہے تو پھر زندگی کی بات نہ کر

عمل کے دور میں نعروں سے کھیلنا ہے گناہ

یہ وقت ہوش کا ہے بے ہشی کی بات نہ کر

رہ حرم ہے پرانی ہے میکدے کی گلی

تو اپنی راہ لے میری گلی کی بات نہ کر

ہر ایک گھونٹ پہ لیتے ہیں رند نام خدا

یہ میکدہ ہے یہاں گمرہی کی بات نہ کر

ابھی ہے وقت عمر توبہ کر گناہوں سے

خدا کا نام لے بادہ کشی کی بات نہ کر