جذبۂ شوق کا اظہار کروں یا نہ کروں

Umar Quraishi (1924–2010)

جذبۂ شوق کا اظہار کروں یا نہ کروں

دل کو رسوا سر بازار کروں یا نہ کروں

درد خود بڑھ کے ہوا جاتا ہے درماں دل کا

اب علاج دل بیمار کروں یا نہ کروں

قیس و منصور کی تقلید سے دم گھٹتا ہے

اہتمام رسن و دار کروں یا نہ کروں

جس کو خودداریٔ جذبات کا احساس نہ ہو

نذر اس کو دل خوددار کروں یا نہ کروں

اس کی رسوائی کا باعث نہ ہوں میری غزلیں

نذر احباب یہ شہکار کروں یا نہ کروں

لے نہ انگڑائی کہیں گردش ایام عمرؔ

حسن خوابیدہ کو بیدار کروں یا نہ کروں