اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیں

Umar Quraishi (1924–2010)

اب تو دراز ایک بھی دست دعا نہیں

سب ہیں خدا یہاں پہ کوئی نا خدا نہیں

قدریں بدل چکی ہیں جنون وفا کی اب

شرط وفا بدل دو کوئی بے وفا نہیں

دیکھو گلی میں تم کو صدا دے رہا ہے کون

آواز دینے والے سبھی تو گدا نہیں

اقبالؔ بن کے شکوہ کرو تو ہے بات کچھ

اس دور میں طریقۂ حالیؔ روا نہیں

میں زندگی کے شہر میں نغموں کی جان تھا

صحرا کا اب سکوت ہوں کوئی صدا نہیں

اب لے چلو عمرؔ کسی میخانے میں مجھے

دیر و حرم میں میرے مرض کی دوا نہیں