Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ترے ملنے کو بیکل ہو گئے ہیںمگر یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیںNasir Kazmi (1925–1972)
  2. تم آ گئے ہو تو کیوں انتظار شام کریںکہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریںNasir Kazmi (1925–1972)
  3. تنہائی کا دکھ گہرا تھامیں دریا دریا روتا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
  4. تو جب میرے گھر آیا تھامیں اک سپنا دیکھ رہا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
  5. تھوڑی دیر کو جی بہلا تھاپھر تری یاد نے گھیر لیا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
  6. تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئیآنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
  7. جب رات گئے تری یاد آئی سو طرح سے جی کو بہلایاکبھی اپنے ہی دل سے باتیں کیں کبھی تیری یاد کو سمجھایاNasir Kazmi (1925–1972)
  8. درد کم ہونے لگا آؤ کہ کچھ رات کٹےغم کی میعاد بڑھا جاؤ کہ کچھ رات کٹےNasir Kazmi (1925–1972)
  9. دکھ کی لہر نے چھیڑا ہوگایاد نے کنکر پھینکا ہوگاNasir Kazmi (1925–1972)
  10. دل دھڑکنے کا سبب یاد آیاوہ تری یاد تھی اب یاد آیاNasir Kazmi (1925–1972)
  11. دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھیکوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھیNasir Kazmi (1925–1972)
  12. دل میں اور تو کیا رکھا ہےتیرا درد چھپا رکھا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  13. دھوپ نکلی دن سہانے ہو گئےچاند کے سب رنگ پھیکے ہو گئےNasir Kazmi (1925–1972)
  14. دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیاملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیاNasir Kazmi (1925–1972)
  15. دیکھ محبت کا دستورتو مجھ سے میں تجھ سے دورNasir Kazmi (1925–1972)
  16. سفر منزل شب یاد نہیںلوگ رخصت ہوئے کب یاد نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
  17. شہر سنسان ہے کدھر جائیںخاک ہو کر کہیں بکھر جائیںNasir Kazmi (1925–1972)
  18. عشق جب زمزمہ پیرا ہوگاحسن خود محو تماشا ہوگاNasir Kazmi (1925–1972)
  19. غم ہے یا خوشی ہے تومیری زندگی ہے توNasir Kazmi (1925–1972)
  20. کب تلک مدعا کہے کوئینہ سنو تم تو کیا کہے کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
  21. کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیںآئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیںNasir Kazmi (1925–1972)
  22. کسی کلی نے بھی دیکھا نہ آنکھ بھر کے مجھےگزر گئی جرس گل اداس کر کے مجھےNasir Kazmi (1925–1972)
  23. کل جنہیں زندگی تھی راس بہتآج دیکھا انہیں اداس بہتNasir Kazmi (1925–1972)
  24. کون اس راہ سے گزرتا ہےدل یوں ہی انتظار کرتا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  25. کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھےرات بھر چاند کے ہم راہ پھرا کرتے تھےNasir Kazmi (1925–1972)
  26. گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانےخدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانےNasir Kazmi (1925–1972)
  27. گلی گلی آباد تھی جن سے کہاں گئے وہ لوگدلی اب کے ایسی اجڑی گھر گھر پھیلا سوگNasir Kazmi (1925–1972)
  28. گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چلمجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکلNasir Kazmi (1925–1972)
  29. گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہعجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہNasir Kazmi (1925–1972)
  30. مسلسل بیکلی دل کو رہی ہےمگر جینے کی صورت تو رہی ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  31. میں نے جب لکھنا سیکھا تھاپہلے تیرا نام لکھا تھاNasir Kazmi (1925–1972)
  32. میں ہوں رات کا ایک بجا ہےخالی رستہ بول رہا ہےNasir Kazmi (1925–1972)
  33. ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہےکل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گاNasir Kazmi (1925–1972)
  34. نیت شوق بھر نہ جائے کہیںتو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیںNasir Kazmi (1925–1972)
  35. نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیےوہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیےNasir Kazmi (1925–1972)
  36. وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیںمرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیںNasir Kazmi (1925–1972)
  37. وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئےوہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئےNasir Kazmi (1925–1972)
  38. ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھیبرہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھیNasir Kazmi (1925–1972)
  39. یاد آتا ہے روز و شب کوئیہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئیNasir Kazmi (1925–1972)
  40. اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیاعمر بھر جس کا راستا دیکھاNasir Kazmi (1925–1972)
  41. بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھےتری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گاNasir Kazmi (1925–1972)
  42. تیری مجبوریاں درست مگرتو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کرNasir Kazmi (1925–1972)
  43. ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جاناذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
  44. میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوںتو کہاں تک چلے گا میرے ساتھNasir Kazmi (1925–1972)
  45. نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصرؔدبی جاتی ہیں آوازیں پرانیNasir Kazmi (1925–1972)
  46. یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میںپھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائیNasir Kazmi (1925–1972)
  47. آئنہ دیکھنا انگشت بدنداں رہنااس نے تو ہم کو بھی سکھلا دیا حیراں رہناOm Krishn Rahat (b. 1925)
  48. اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیںوہ میرے ساتھ کبھی عرش تک گیا ہی نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
  49. باغ تاراج باغباں غائبشاخ موجود آشیاں غائبOm Krishn Rahat (b. 1925)
  50. جیت بھی جائیں گے آمادۂ پیکار تو ہوںہم الجھنے کے لئے وقت سے تیار تو ہوںOm Krishn Rahat (b. 1925)