اب تو جینے کی کوئی راہ نہیں

Umar Quraishi (1924–2010)

اب تو جینے کی کوئی راہ نہیں

اپنے ہی شہر میں پناہ نہیں

جانتے سب ہیں میرے قاتل کو

پھر بھی میرا کوئی گواہ نہیں

ایک وہ ہیں کہ ہر جفا ہے روا

ایک ہم ہیں کہ اذن آہ نہیں

بھائی بھائی کا ہو گیا دشمن

اب کسی سے بھی رسم و راہ نہیں

بند کر دو عدالتوں کی کتاب

اب کوئی شے یہاں گناہ نہیں

بد نصیبی کی انتہا ہے عمرؔ

روشنی ہے مگر نگاہ نہیں