Poetry
- دل جلتا ہے شام سویرےایک چراغ اور لاکھ اندھیرےQateel Shifai (1919–2001)
- دل کو غم حیات گوارا ہے ان دنوںپہلے جو درد تھا وہی چارا ہے ان دنوںQateel Shifai (1919–2001)
- دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھااس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھاQateel Shifai (1919–2001)
- ذکر مرا اور تیرے لب پر یاد مری اور تیرے دل میںجھوٹی آس دلانے والے آگ نہ بھڑکا میرے دل میںQateel Shifai (1919–2001)
- رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھQateel Shifai (1919–2001)
- راستے یاد نہیں راہنما یاد نہیںاب مجھے کچھ تری گلیوں کے سوا یاد نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میںہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میںQateel Shifai (1919–2001)
- رنگ جدا آہنگ جدا مہکار جداپہلے سے اب لگتا ہے گلزار جداQateel Shifai (1919–2001)
- زندگی کے غم لاکھوں اور چشم نم تنہاحسرتوں کی میت پر رو رہے ہیں ہم تنہاQateel Shifai (1919–2001)
- زیست کی گرمیٔ بیدار بھی لایا سورجکھل گئی آنکھ مری سر پہ جو آیا سورجQateel Shifai (1919–2001)
- سایۂ زلف سیہ فام کہاں تک پہنچےجانے یہ سلسلۂ شام کہاں تک پہنچےQateel Shifai (1919–2001)
- ستم کے بعد کرم کی ادا بھی خوب رہیجفا تو خیر جفا تھی وفا بھی خوب رہیQateel Shifai (1919–2001)
- سسکیاں لیتی ہوئی غمگیں ہواؤ چپ رہوسو رہے ہیں درد ان کو مت جگاؤ چپ رہوQateel Shifai (1919–2001)
- سکون دل تو کہاں راحت نظر بھی نہیںیہ کیسی بزم ہے جس میں ترا گزر بھی نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- شاید مرے بدن کی رسوائی چاہتا ہےدروازہ میرے گھر کا بینائی چاہتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کردستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کرQateel Shifai (1919–2001)
- صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میںلیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میںQateel Shifai (1919–2001)
- صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہےلیکن ترے پاس وفا کا کوئی بھی معیار نہیں ہےQateel Shifai (1919–2001)
- طرب خانوں کے نغمے غم کدوں کو بھا نہیں سکتےہم اپنے جام میں اپنا لہو چھلکا نہیں سکتےQateel Shifai (1919–2001)
- فراز بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اتراابھی تک اس کی آنکھوں سے خمار شب نہیں اتراQateel Shifai (1919–2001)
- فسردگی کا مداوا کریں تو کیسے کریںوہ لوگ جو ترے قرب جمال سے بھی ڈریںQateel Shifai (1919–2001)
- کچھ غنچہ لبوں کی یاد آئی کچھ گل بدنوں کی یاد آئیجو آنکھ جھپکتے بیت گئیں ان انجمنوں کی یاد آئیQateel Shifai (1919–2001)
- کوئی مقام سکوں راستے میں آیا نہیںہزار پیڑ ہیں لیکن کہیں بھی سایا نہیںQateel Shifai (1919–2001)
- کہوں کیا فسانۂ غم اسے کون مانتا ہےجو گزر رہی ہے مجھ پر مرا دل ہی جانتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیںنہ ہو بلا سے خریدار آؤ سچ بولیںQateel Shifai (1919–2001)
- کیا اس کا گلا کیجے اسے پیار ہی کب تھاوہ عہد فراموش وفادار ہی کب تھاQateel Shifai (1919–2001)
- کیا جانے کس خمار میں کس جوش میں گراوہ پھل شجر سے جو مری آغوش میں گراQateel Shifai (1919–2001)
- کیا خبر کب نیند آئے دیدۂ بے خواب میںشام سے ہم جل رہے ہیں سایۂ مہتاب میںQateel Shifai (1919–2001)
- کیا عشق تھا جو باعث رسوائی بن گیایارو تمام شہر تماشائی بن گیاQateel Shifai (1919–2001)
- کیا ہے پیار جسے ہم نے زندگی کی طرحوہ آشنا بھی ملا ہم سے اجنبی کی طرحQateel Shifai (1919–2001)
- گاتے ہوئے پیڑوں کی خنک چھاؤں سے آگے نکل آئےہم دھوپ میں جلنے کو ترے گاؤں سے آگے نکل آئےQateel Shifai (1919–2001)
- گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیںہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- گریباں در گریباں نکتہ آرائی بھی ہوتی ہےبہار آئے تو دیوانوں کی رسوائی بھی ہوتی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- گنگناتی سی کوئی رات بھی آ جاتی ہےآپ آتے ہیں تو برسات بھی آ جاتی ہےQateel Shifai (1919–2001)
- گھنگھور گھٹا کے آنچل کو جب کالی رات نچوڑ گئیاک تنہائی کو چین ملا اک تنہائی دم توڑ گئیQateel Shifai (1919–2001)
- لکھ دیا اپنے در پہ کسی نے اس جگہ پیار کرنا منع ہےپیار اگر ہو بھی جائے کسی کو اس کا اظہار کرنا منع ہےQateel Shifai (1919–2001)
- لہو میں ڈوبا ہوا ملا ہے وفا کا ہر اک اصول تجھ کومیں جانتا ہوں پسند کیوں ہیں گلاب کے سرخ پھول تجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- مرحلہ رات کا جب آئے گاجسم سائے کو ترس جائے گاQateel Shifai (1919–2001)
- مری نظر سے نہ ہو دور ایک پل کے لیےترا وجود ہے لازم مری غزل کے لیےQateel Shifai (1919–2001)
- مل جل کے برہنہ جسے دنیا نے کیا ہےاس درد نے اب میرا بدن اوڑھ لیا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہماک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہمQateel Shifai (1919–2001)
- منزل جو میں نے پائی تو ششدر بھی میں ہی تھاوہ اس لیے کہ راہ کا پتھر بھی میں ہی تھاQateel Shifai (1919–2001)
- منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کےنیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کےQateel Shifai (1919–2001)
- مہرباں ہم پہ جو تقدیر ہماری ہوگیآپ کی زلف گرہ گیر ہماری ہوگیQateel Shifai (1919–2001)
- میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گاآئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گاQateel Shifai (1919–2001)
- نگاہوں میں چمک دل میں خوشی محسوس کرتا ہوںکہ تیرے بس میں اپنی زندگی محسوس کرتا ہوںQateel Shifai (1919–2001)
- نگاہوں میں خمار آتا ہوا محسوس ہوتا ہےتصور جام چھلکاتا ہوا محسوس ہوتا ہےQateel Shifai (1919–2001)
- نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیںہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیںQateel Shifai (1919–2001)
- نئے اک شہر کو صبح سفر کیا لے چلی مجھ کوصدائیں دے رہی ہے ایک چھوٹی سی گلی مجھ کوQateel Shifai (1919–2001)
- وصال کی سرحدوں تک آ کر جمال تیرا پلٹ گیا ہےوہ رنگ تو نے مری نگاہوں پہ جو بکھیرا پلٹ گیا ہےQateel Shifai (1919–2001)