مل جل کے برہنہ جسے دنیا نے کیا ہے

Qateel Shifai (1919–2001)

مل جل کے برہنہ جسے دنیا نے کیا ہے

اس درد نے اب میرا بدن اوڑھ لیا ہے

میں ریت کے دریا پہ کھڑا سوچ رہا ہوں

اس شہر میں پانی تو یزیدوں نے پیا ہے

اے گور کنوں قبر کا دے کر مجھے دھوکا

تم نے تو خلاؤں میں مجھے گاڑ دیا ہے

میں صاحب عزت ہوں مری لاش نہ کھولو

دستار کے پرزوں سے کفن میں نے سیا ہے

پھیلا ہے ترا کرب قتیلؔ آدھی صدی پر

حیرت ہے کہ تو اتنے برس کیسے جیا ہے

یہ بات پھر مجھے سورج بتانے آیا ہے

ازل سے میرے تعاقب میں میرا سایا ہے

بلند ہوتی چلی جا رہی ہیں دیواریں

اسیر در ہے وہ جس نے مجھے بلایا ہے

میں لا زوال تھا مٹ مٹ کے پھر ابھرتا رہا

گنوا گنوا کے مجھے زندگی نے پایا ہے

وہ جس کے نین ہیں گہرے سمندروں جیسے

وہ اپنی ذات میں مجھ کو ڈبونے آیا ہے

ملی ہے اس کو بھی شہرت قتیلؔ میری طرح

جب اس نے اپنے لبوں پر مجھے سجایا ہے