Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- اک پل بھی کہیں راحت و آرام نہیں ہےیہ عشق کا آغاز ہے انجام نہیں ہےGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- بدلا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوںتہذیب کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیںاے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیںGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوںاے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوںParveen Shakir (1952–1994)
- بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھااس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھاParveen Shakir (1952–1994)
- رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھیسائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھیParveen Shakir (1952–1994)
- مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سےدستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سےParveen Shakir (1952–1994)
- دروازہ جو کھولا تو نظر آئے کھڑے وہحیرت ہے مجھے آج کدھر بھول پڑے وہParveen Shakir (1952–1994)
- یوں دیکھنا اس کو کہ کوئی اور نہ دیکھےانعام تو اچھا تھا مگر شرط کڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)
- اے انس خلیفہ ہے تو خاقان نہیں ہےتو میزباں ہے ارض پہ مہمان نہیں ہےB.M Khan Maley (b. 1952)
- جب خنجر قاتل سے نہ انکار ہوا چپآخر مرے ہاتھوں کا طلب گار ہوا چپRafi Sirsivi (1952–2019)
- وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتادل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- خاموش بھی رہ جائے اور اظہار بھی کر دےتصویر وہ حاذق ہے جو بیمار بھی کر دےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گاہر موج میں پانی بھی برابر نہ ملے گاTafzeel Ahmad (b. 1954)
- محور پہ بھی گردش مری محور سے الگ ہواس بحر میں تیروں جو سمندر سے الگ ہوTafzeel Ahmad (b. 1954)
- ہیرا ہے کہ شیشے کا جگر کاٹ رہا ہےبیٹے کی پڑھائی پہ کیا جس نے بہت خرچEjaz Ansari (b. 1955)
- اس دور کے آقاؤں کی عادت نہیں بدلیہم جیسے فقیروں کی بھی فطرت نہیں بدلیSaba Bilgrami (b. 1955)
- چین آتا نہیں ان سے ملاقات کئے بنبولیں نہ وہ میں رہتی نہیں بات کئے بنParveen Kaif (b. 1956)
- بھرنے کو جو دامن کوئی پھولوں سے چلا ہوکیا جانئے اس شخص کا کیا حال ہوا ہوVazahat Nseem (b. 1956)
- تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گےخدشات کا موسم ہے سوالات تو ہوں گےVazahat Nseem (b. 1956)
- دل اتنی کشاکش سے نکل جائے تو اچھایہ پھول کسی آگ میں جل جائے تو اچھاVazahat Nseem (b. 1956)
- ایسا بھی نہیں درد نے وحشت نہیں کی ہےاس غم کی کبھی ہم نے اشاعت نہیں کی ہےYashab Tamanna (b. 1957)
- بے مہر تعلق تھا جدا ہونا تھا اک دنجو کچھ بھی مرے ساتھ ہوا ہونا تھا اک دنYashab Tamanna (b. 1957)
- دریا جو چڑھا ہے وہ اترنے نہیں دینایہ لمحۂ موجود گزرنے نہیں دیناObaid Siddiqi (1957–2020)
- یہ شہر طرب دیکھ بیابان میں کیا ہےاے طائر وحشت ترے امکان میں کیا ہےObaid Siddiqi (1957–2020)
- سینے پہ کرے وار جو خنجر وہی اچھاجو کھل کے ستم ڈھائے ستم گر وہی اچھاCharan Singh Bashar (b. 1957)
- جس صبر و رضا سے ترے رستے پہ رواں ہوںباطل کے ارادوں کے لئے کوہ گراں ہوںSabeen Yunus (b. 1957)
- بازار جہالت میں سخن بیچ رہا ہوںیہ گیت یہ نغمات یہ فن بیچ رہا ہوںChander Wahid (b. 1958)
- اک قرب جو قربت کو رسائی نہیں دیتااک فاصلہ احساس جدائی نہیں دیتاNadeem Fazli (b. 1959)
- جب وہ مرے اثبات سے انکار کو سمجھاتب ہی تو حقیقت میں مرے پیار کو سمجھاParveen Sultana Saba (b. 1959)
- اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیںمقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیںAanis Moin (1960–1986)
- ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اوربڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اورAanis Moin (1960–1986)
- یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اوردکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اورAanis Moin (1960–1986)
- حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہولگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھاAanis Moin (1960–1986)
- ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورجاس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہےAanis Moin (1960–1986)
- پھر موسم یخ بستہ بدلنے کی خبر دےرگ رگ میں جمی برف پگھلنے کی خبر دےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- اک شعلۂ حسرت ہوں مٹا کیوں نہیں دیتےمجھ کو مرے جینے کہ سزا کیوں نہیں دیتےNafas Ambalvi (b. 1961)
- ہم شہر محبت کو بسانے میں لگے ہیںکچھ لوگ مگر آگ لگانے میں لگے ہیںNafas Ambalvi (b. 1961)
- اس شہر میں خوابوں کی عمارت نہیں بنتیبہتر ہے کہ تعمیر کا نقشہ ہی بدل لوNafas Ambalvi (b. 1961)
- پر کیف کہیں کے بھی نظارے نہ رہیں گےدنیا میں اگر عشق کے مارے نہ رہیں گےObaidur Rahman (1961–2014)
- خوشبو ترے لہجے کی مرے فن میں بسی ہےاشعار ہیں میرے تری آواز کے سائےObaidur Rahman (1961–2014)
- بہتی ہوئی آنکھوں کی روانی میں مرے ہیںکچھ خواب مرے عین جوانی میں مرے ہیںEjaaz tawakkal (b. 1962)
- یہ حکمت عملی ہے کوئی کینہ نہیں ہےاس ہجر کے گھاؤ کو ابھی سینا نہیں ہےEjaaz tawakkal (b. 1962)
- وحشت میں نکل آیا ہوں ادراک سے آگےاب ڈھونڈ مجھے مجمع عشاق سے آگےRafi Raza (b. 1962)
- ہر ذرہ چمن زار کی زینت کا سبب ہےمحفل میں چمن زار کی ہر شے کا ادب ہےDeepak Danish (b. 1962)
- تم نے جو کیا پیش وہ گلدان بہت ہےیہ رسم و رہ خاص مری جان بہت ہےBadr Mohammadi (b. 1963)
- دکھ درد مرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیںظلمت میں وہ قندیل منور کی طرح ہیںZafar Imam (b. 1963)
- یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہےسورج کی وراثت میں اجالا بھی نہیں ہےHafiz Karnataki (b. 1964)
- عالم تری یادوں کا منظم تو ہوا ہےپھر ایک نیا سلسلہ پیہم تو ہوا ہےPandit Aks Lucknowi (b. 1964)
- بکھرا ہے کئی بار سمیٹا ہے کئی باریہ دل ترے اطراف کو نکلا ہے کئی بارNaeem Zarrar Ahmad (b. 1965)