جب خنجر قاتل سے نہ انکار ہوا چپ
Rafi Sirsivi (1952–2019)جب خنجر قاتل سے نہ انکار ہوا چپ
آخر مرے ہاتھوں کا طلب گار ہوا چپ
شمشیر قلم موت کے بازار سے گزرا
تاریخ بتائے کہاں کردار ہوا چپ
یہ دیکھ کے میداں میں پریشاں ہے ستم گر
مقتول نہیں خنجر خونخوار ہوا چپ
اس عشق حقیقی کی دعا مانگیے بھائی
جو نوک سناں پر نہ سر دار ہوا چپ
کی منبر لب سے جو تبسم میں خطابت
سجدے میں گرے تیر کماندار ہوا چپ
آنکھیں نہ ہوئیں بند کبھی دست اجل سے
یہ بات الگ طالب دیدار ہوا چپ
صیاد کو نیند آئے یہ ممکن ہی کہاں تھا
بیڑی نہ کبھی طوق گراں بار ہوا چپ
جب اس کا سوال آ گیا تنقید کی زد میں
سکتہ میں غرور آ گیا دربار ہوا چپ
معلوم نہ تھی اس کو مرے اشکوں کی نسبت
قیمت جو بتائی تو خریدار ہوا چپ
اشکوں سے کیا ماتم مظلوم سر عام
بے نطق بھی ہو کر نہ عزادار ہوا چپ