بدلا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوں

Gauhar Shaikh Purwi (b. 1951)

بدلا ہوا دنیا کا چلن دیکھ رہا ہوں

تہذیب کے ماتھے پہ شکن دیکھ رہا ہوں

تو نے جو گرا لیں رخ پر نور پہ زلفیں

سورج کے بھی چہرے پہ گہن دیکھ رہا ہوں

وہ مجھ سے وفاؤں کی سند مانگ رہے ہیں

میں جن کو یہاں عہد شکن دیکھ رہا ہوں

پھولوں میں نہ پہلی سی وہ خوشبو ہے نہ وہ رنگ

بھونروں کو گرفتار محن دیکھ رہا ہوں

جس عہد میں فن کار کی عزت نہیں باقی

میں آج وہی دور فتن دیکھ رہا ہوں

صحرا ہو کہ گلزار گرا دیتا ہے بجلی

کیا طور ترے چرخ کہن دیکھ رہا ہوں

اب رند بھی ایسے میں بدل جائیں تو بہتر

بدلا ہوا ساقی کا چلن دیکھ رہا ہوں

اطوار زمانے کے عجب ہو گئے گوہرؔ

عصمت کی کلائی میں رسن دیکھ رہا ہوں