تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے
Vazahat Nseem (b. 1956)تشویش نہ کیجے یہ نظریات تو ہوں گے
خدشات کا موسم ہے سوالات تو ہوں گے
ہر قلب و نگہ میں یہ تضادات تو ہوں گے
دنیائے عجائب میں کمالات تو ہوں گے
اب ہنس کے دکھاؤ تو بڑا ظرف تمہارا
اپنوں سے لگی چوٹ تو صدمات تو ہوں گے
تردید و تردد کے وسائل نکل آئے
تم مل نہیں سکتے تو یہ جذبات تو ہوں گے
دیرینہ روایات پہ دے کون توجہ
یہ دور نیا ہے نئے حالات تو ہوں گے
یوں ہی نہیں ہوتا ہے پریشان مصورؔ
کچھ عیب و ہنر زیر سماوات تو ہوں گے