اک پل بھی کہیں راحت و آرام نہیں ہے
Gauhar Shaikh Purwi (b. 1951)اک پل بھی کہیں راحت و آرام نہیں ہے
یہ عشق کا آغاز ہے انجام نہیں ہے
ڈرتا ہوں کہ گردش نہ زمانے کی ٹھہر جائے
اب ہاتھ میں سورج ہے مرے جام نہیں ہے
کیا لوٹ لیا رندوں نے مے خانہ ہی سارا
یا میری ہی قسمت میں کوئی جام نہیں ہے
جس پاپ کی دنیا میں ہے راون کا بسیرا
اس سورگ سی دھرتی پہ کوئی رام نہیں ہے
میں نے ہی نکھارا ہے ترا رنگ محبت
اور میرا تری بزم میں کچھ کام نہیں ہے
تم نے ہی ستم ڈھائے ہیں تم نے ہی جفا کی
میں کیسے کہوں تم پہ کچھ الزام نہیں ہے
سب کچھ ہے جب اپنا ہی تو میں سوچ رہا ہوں
انسان کو کیوں پہلا سا آرام نہیں ہے
میرے ہی گناہوں پہ نظر کیوں ہے جہاں کی
ہے کون جو اس دور میں بدنام نہیں ہے
حیرت ہے کہ تو اس کو نہیں جانتا لیکن
اس شہر میں گوہرؔ کوئی گم نام نہیں ہے