Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہادنیا کو اعتبار ہمارا نہیں رہادل شاہ جہانپوری
- اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیااب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیادل شاہ جہانپوری
- پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہاجو دل تری نظر سے گرا دل نہیں رہادل شاہ جہانپوری
- تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہمخودداریوں کا خواب پریشاں ہے اور ہمدل شاہ جہانپوری
- اس کے حریم ناز میں تیرا گزر کہاںاے دل یہ سچ بتا کہ رہا رات بھر کہاںEjaz Ajmeri
- سب ان کا حال دیکھ رہے ہیں نظر سے ہمبیٹھے ہیں اس طرح سے کہ ہیں بے خبر سے ہمEjaz Ajmeri
- کھلتی نہیں ہے اس لئے میری زبان غمگھبرا نہ جائے سن کے کہیں داستان غمEjaz Ajmeri
- منصور وار محو تماشا نہیں ہوں میںسب کچھ سہی خراب تمنا نہیں ہوں میںEjaz Ajmeri
- اشکوں کو چن کے آنکھوں میں بویا کریں گے ہمرونا تمام شہر کا رویا کریں گے ہمFaisal Fehmi
- کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئےاب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئےFaisal Fehmi
- میں پاسبان باغ حقیقت سے ڈر گیاسو دشت دل کی خاک اڑانے سے مر گیاFaisal Fehmi
- اتنی شدید دھوپ تھی اب کے بہار میںجلنے لگے تھے پھول ترے انتظار میںHabib.I.Kinkhabwala
- تیری کماں کے بس سے بھی آگے نکل گیامیں عشق میں ہوس سے بھی آگے نکل گیاHabib.I.Kinkhabwala
- فوٹو کو اس نے پھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاتو میں نے منہ بگاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاHabib.I.Kinkhabwala
- کتنی عجیب بات ہے تیرے بنا مجھےہر چیز لطف دینے لگی ہے ذرا مجھےHabib.I.Kinkhabwala
- میں نے تمام عمر کا خاکہ نگل لیادو پل کی بھاگ دوڑ میں رستا نگل لیاHabib.I.Kinkhabwala
- تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیںJagdish Sahay Saxena
- تو بھی وہاں نہیں محبت جہاں نہیںہر آستان حسن ترا آستاں نہیںJagdish Sahay Saxena
- کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہےJagdish Sahay Saxena
- یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیادن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیاLaiq Siddiqi
- موسم بہت حسیں ہے فضا خوش گوار ہےہر رنگ کو مزاج چمن سازگار ہےLaiq Siddiqi
- اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملےاس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میںتھا غرق میں تصور آتش سے آب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیںکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملےیہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میںاچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیںیہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیںمحمود رامپوری
- ظاہر فریب نرگس مستانہ ہو گیاکچھ ہوشیار اب دل دیوانہ ہو گیامحمود رامپوری
- مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹلیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹمحمود رامپوری
- دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میںاڑ جائے جو ہوا میں وہ تنکا نہیں ہوں میںNabiul Hasan Shamim
- آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کےچمکے نصیب آج ہمارے مزار کےنشتر چھپروی
- میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میںدل اختیار میں نہ جگر اختیار میںنشتر چھپروی
- ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیاہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیاشوق قدوائی
- فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیرمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیرشوق قدوائی
- بندے کا پردہ شان الٰہی چھپی ہوئیخود کو تو چھوڑ خاک اڑایا تو کیا ہواYasin Ali Khan Markaz
- تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھیبجھتی سمندروں سے یہ وہ تشنگی نہ تھیZafar Akbarabadi
- دنیا مزاج دان و مزاج آشنا نہ تھیدنیا کے پاس زہر بہت تھا دوا نہ تھیZafar Akbarabadi
- بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخصیہ کیا ہوا کہ مجھ سے خفا ہو گیا وہ شخصFaiz Tabassum Tonsvi
- کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئےدل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئےFaiz Tabassum Tonsvi
- ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہوآ جا کہ اس کے بعد کوئی بات ہو نہ ہوFaiz Tabassum Tonsvi
- مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کیمٹی خراب کیوں نہ ہو میرے غبار کیIbraheem Aajiz
- وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیںوہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیںJagdeesh Raj Figar
- اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اورمیری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اورLaiq Aajiz
- بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیںسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیںمیر تسکین دہلوی
- دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہےہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہےمیر تسکین دہلوی
- گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتےتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتےمیر تسکین دہلوی
- تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوںگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھےمیر تسکین دہلوی
- جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئےدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئےمرزا علی لطف
- خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہےاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہےمرزا علی لطف
- اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کرتو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کرNabi Bakhsh Nayab