Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہادنیا کو اعتبار ہمارا نہیں رہادل شاہ جہانپوری
  2. اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیااب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیادل شاہ جہانپوری
  3. پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہاجو دل تری نظر سے گرا دل نہیں رہادل شاہ جہانپوری
  4. تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہمخودداریوں کا خواب پریشاں ہے اور ہمدل شاہ جہانپوری
  5. اس کے حریم ناز میں تیرا گزر کہاںاے دل یہ سچ بتا کہ رہا رات بھر کہاںEjaz Ajmeri
  6. سب ان کا حال دیکھ رہے ہیں نظر سے ہمبیٹھے ہیں اس طرح سے کہ ہیں بے خبر سے ہمEjaz Ajmeri
  7. کھلتی نہیں ہے اس لئے میری زبان غمگھبرا نہ جائے سن کے کہیں داستان غمEjaz Ajmeri
  8. منصور وار محو تماشا نہیں ہوں میںسب کچھ سہی خراب تمنا نہیں ہوں میںEjaz Ajmeri
  9. اشکوں کو چن کے آنکھوں میں بویا کریں گے ہمرونا تمام شہر کا رویا کریں گے ہمFaisal Fehmi
  10. کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئےاب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئےFaisal Fehmi
  11. میں پاسبان باغ حقیقت سے ڈر گیاسو دشت دل کی خاک اڑانے سے مر گیاFaisal Fehmi
  12. اتنی شدید دھوپ تھی اب کے بہار میںجلنے لگے تھے پھول ترے انتظار میںHabib.I.Kinkhabwala
  13. تیری کماں کے بس سے بھی آگے نکل گیامیں عشق میں ہوس سے بھی آگے نکل گیاHabib.I.Kinkhabwala
  14. فوٹو کو اس نے پھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاتو میں نے منہ بگاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاHabib.I.Kinkhabwala
  15. کتنی عجیب بات ہے تیرے بنا مجھےہر چیز لطف دینے لگی ہے ذرا مجھےHabib.I.Kinkhabwala
  16. میں نے تمام عمر کا خاکہ نگل لیادو پل کی بھاگ دوڑ میں رستا نگل لیاHabib.I.Kinkhabwala
  17. تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیںJagdish Sahay Saxena
  18. تو بھی وہاں نہیں محبت جہاں نہیںہر آستان حسن ترا آستاں نہیںJagdish Sahay Saxena
  19. کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہےJagdish Sahay Saxena
  20. یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیادن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیاLaiq Siddiqi
  21. موسم بہت حسیں ہے فضا خوش گوار ہےہر رنگ کو مزاج چمن سازگار ہےLaiq Siddiqi
  22. اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملےاس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
  23. شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میںتھا غرق میں تصور آتش سے آب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  24. نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیںکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  25. ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملےیہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
  26. یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میںاچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  27. دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیںیہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیںمحمود رامپوری
  28. ظاہر فریب نرگس مستانہ ہو گیاکچھ ہوشیار اب دل دیوانہ ہو گیامحمود رامپوری
  29. مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹلیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹمحمود رامپوری
  30. دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میںاڑ جائے جو ہوا میں وہ تنکا نہیں ہوں میںNabiul Hasan Shamim
  31. آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کےچمکے نصیب آج ہمارے مزار کےنشتر چھپروی
  32. میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میںدل اختیار میں نہ جگر اختیار میںنشتر چھپروی
  33. ابرو ہے کعبہ آج سے یہ نام رکھ دیاہم نے اٹھا کے طاق پہ اسلام رکھ دیاشوق قدوائی
  34. فریاد اور تجھ کو ستم گر کہے بغیرمانوں نہ حشر میں ترے منہ پر کہے بغیرشوق قدوائی
  35. بندے کا پردہ شان الٰہی چھپی ہوئیخود کو تو چھوڑ خاک اڑایا تو کیا ہواYasin Ali Khan Markaz
  36. تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھیبجھتی سمندروں سے یہ وہ تشنگی نہ تھیZafar Akbarabadi
  37. دنیا مزاج دان و مزاج آشنا نہ تھیدنیا کے پاس زہر بہت تھا دوا نہ تھیZafar Akbarabadi
  38. بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخصیہ کیا ہوا کہ مجھ سے خفا ہو گیا وہ شخصFaiz Tabassum Tonsvi
  39. کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئےدل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئےFaiz Tabassum Tonsvi
  40. ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہوآ جا کہ اس کے بعد کوئی بات ہو نہ ہوFaiz Tabassum Tonsvi
  41. مر کر بھی ہے تلاش مجھے کوئے یار کیمٹی خراب کیوں نہ ہو میرے غبار کیIbraheem Aajiz
  42. وہ آپ کے قریں ہے اسے دیکھنا نہیںوہ بھی تو مہ جبیں ہے اسے دیکھنا نہیںJagdeesh Raj Figar
  43. اس حسن بے نیاز کے کچھ مرتبے تھے اورمیری اداس راتوں کے بجھتے دیے تھے اورLaiq Aajiz
  44. بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیںسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیںمیر تسکین دہلوی
  45. دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہےہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہےمیر تسکین دہلوی
  46. گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتےتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتےمیر تسکین دہلوی
  47. تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوںگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھےمیر تسکین دہلوی
  48. جس دن سے ہم جنوں کے ہیں داماں لگے ہوئےدامن کی جا یہاں ہیں گریباں لگے ہوئےمرزا علی لطف
  49. خوبی کا تیری بسکہ اک عالم گواہ ہےاپنی بغیر دیکھے ہی حالت تباہ ہےمرزا علی لطف
  50. اے ہم نشیں خدا کے لئے امتحاں نہ کرتو میرے پاس میری حکایت بیاں نہ کرNabi Bakhsh Nayab