منصور وار محو تماشا نہیں ہوں میں

Ejaz Ajmeri

منصور وار محو تماشا نہیں ہوں میں

سب کچھ سہی خراب تمنا نہیں ہوں میں

پنہاں تجلیاں ہیں اسی مشت خاک میں

ہر چند کچھ نہیں ہوں مگر کیا نہیں ہوں میں

سوچو تو سارے کھیل تماشے مجھی سے ہیں

سمجھو تو کوئی کھیل تماشا نہیں ہوں میں

ہے درد عشق یار مجھے جان سے عزیز

سودائیٔ علاج مسیحا نہیں ہوں میں

کرتا ہوں آزمائش فریاد اے فلک

یا تو نہیں ہے آج کی شب یا نہیں ہوں میں

حاصل تری نگاہ سے ہے کیف بے خودی

حرف تلاش ساغر و مینا نہیں ہوں میں

ذوق سخن ہے اس لئے لکھی گئی غزل

اعجازؔ ورنہ غالبؔ و سوداؔ نہیں ہوں میں