اتنی شدید دھوپ تھی اب کے بہار میں

Habib.I.Kinkhabwala

اتنی شدید دھوپ تھی اب کے بہار میں

جلنے لگے تھے پھول ترے انتظار میں

جتنی کمی لگی تھی دیے کو ہوا کی بس

اتنی کمی رہی تھی ترے اعتبار میں

معلوم ہے ہمیں کہ کسی اور کی ہے وہ

پھر بھی حرام خور کھڑے ہیں قطار میں

ذلت بھری نظر سے ہمیں دیکھتا ہے اب

شیشہ جو رکھ دیا ہے تمہارے دیار میں

میں نے نصیب چھان کے دیکھا مگر مجھے

ملتی نہیں ہے چیز کبھی ایک بار میں