کیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے
Faisal Fehmiکیوں آسمان ہجر کے تارے چلے گئے
اب کیا ہوا جو خواب تمہارے چلے گئے
ساقی کے در پہ آج بغاوت کے شور میں
ہم جام جام جام پکارے چلے گئے
روٹھا ہوا ہے چاند بہت آفتاب سے
اور چاندنی کو ڈھونڈنے تارے چلے گئے
اس دست اختیار میں اک جان ہی تو تھی
ہم تم پہ اپنی جان کو وارے چلے گئے
بے مہر زندگی کا گزارا نہ ہو سکا
ہم بار بار عشق میں ہارے چلے گئے