میں پاسبان باغ حقیقت سے ڈر گیا

Faisal Fehmi

میں پاسبان باغ حقیقت سے ڈر گیا

سو دشت دل کی خاک اڑانے سے مر گیا

بہتا رہا میں ساحل دنیا کی ریت پر

آخر بدن کی خاک سمیٹی تو گھر گیا

کچھ تو مرے سخن کی حرارت سے کھل اٹھا

کچھ میں ترے جمال کے صدقے سنور گیا

پہلے تو خیر دل میں تری گرد یاد تھی

پر اب تو وہ غبار بھی دل سے اتر گیا

آواز دے رہے ہیں مجھے وحشیان شہر

اور بین کر رہے ہیں کہ فہمیؔ کدھر گیا