کھلتی نہیں ہے اس لئے میری زبان غم
Ejaz Ajmeriکھلتی نہیں ہے اس لئے میری زبان غم
گھبرا نہ جائے سن کے کہیں داستان غم
اس عاشقی میں کوئی نئی بات تو نہیں
اک ناتواں سی جان بنی ہے جہان غم
یہ بھی کسی طرح سے گوارا نہیں مجھے
اوروں کی ہو زبان سے میرا بیان غم
کرتا ہے صبر و ضبط سے مہماں نوازیاں
دل بن گیا ہے شوق سے خود میزبان غم
سر بھی جھکا لیا ہے اسی دل کے سامنے
اعجازؔ کے لئے ہے یہی آستان غم