سب ان کا حال دیکھ رہے ہیں نظر سے ہم

Ejaz Ajmeri

سب ان کا حال دیکھ رہے ہیں نظر سے ہم

بیٹھے ہیں اس طرح سے کہ ہیں بے خبر سے ہم

ہمت سے کام لے کے نگاہیں ملا تو لیں

الجھن میں پڑ گئے ہیں پیام نظر سے ہم

اڑنے لگا ہے پھیلتا جاتا ہے ہر طرف

اس دامن خیال کو پکڑیں کدھر سے ہم

دکھلا دیا جو آج مقدر نے اس کا در

اک بوجھ تھا اتار چلے اپنے سر سے ہم

دل میں اتر نہ آئیں وہ آنکھوں کی راہ سے

دل کو بچا رہے ہیں خود اپنی نظر سے ہم

راہیں بھی بند ہیں در تقدیر بھی ہے بند

اس کے حریم ناز میں جائیں کدھر سے ہم

ہیں اور کیا ارادے تمہیں اس کی فکر کیوں

اعجازؔ پوچھ لیں گے اسی فتنہ گر سے ہم