اس کے حریم ناز میں تیرا گزر کہاں

Ejaz Ajmeri

اس کے حریم ناز میں تیرا گزر کہاں

اے دل یہ سچ بتا کہ رہا رات بھر کہاں

منزل سے دور گم شدۂ کارواں ہوں میں

آئیں مری مدد کے لئے ہیں خضر کہاں

عزلت نشین خلوت و مست خیال بن

پھرتا رہے گا خاک بنا در بدر کہاں

مجبور عشق ہوں کہ اٹھاتا ہوں اپنے ہاتھ

گو جانتا ہوں میں کہ دعا میں اثر کہاں

اک داستان شوق مرے دل میں ہے ابھی

باتیں ہوئی ہیں یار سے جی کھول کر کہاں

وہ میرے گھر پہ آئیں نہ آئیں بلا ہی لیں

اعجازؔ میرا ایسا مقدر مگر کہاں