Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- میں غار میں تھا اور ہوا کے بغیر تھااک روز آفتاب ضیا کے بغیر تھاFaisal Ajmi (b. 1951)
- یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیامیرا سوال خلق خدا تک نہیں گیاFaisal Ajmi (b. 1951)
- جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملاوہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- میں ریت کا محل ہوں مرے پاسباں درختسینے پہ روک لیتے ہیں سب آندھیاں درختParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئیسوز یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئیTabish Mehdi (b. 1951)
- رشتوں کی بھیڑ میں بھی وہ تنہا کھڑا رہاندیاں تھی اس کے پاس وہ پیاسا کھڑا رہاUrmilesh (1951–2005)
- دنیا کی جو خوشی تھی وہ غم سے بدل گئیشاید حیات عشق کے سانچے میں ڈھل گئیGauhar Shaikh Purwi (b. 1951)
- مومن بنے تو قوم کا رہبر بنا دیاان پڑھ گنوار کو بھی گورنر بنا دیاLateef Saani (b. 1951)
- پائی ہے تلخیوں سے یہ سرشار زندگیہر شخص چاہتا ہے چمکدار زندگیMadhukar Shaidai (b. 1951)
- گہرے سمندروں میں بالآخر اتر گئےخوش فہمیوں کا زہر پیا اور مر گئےNadeem Siddiqui (b. 1951)
- الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کیہم نے تو بس ہوا کے تعلق سے بات کیParveen Shakir (1952–1994)
- بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئےموسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئےParveen Shakir (1952–1994)
- تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہےپھر موسم بہار مرے گلستاں میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
- ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیابجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیاParveen Shakir (1952–1994)
- ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئےمیں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیےParveen Shakir (1952–1994)
- قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھاپر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھاParveen Shakir (1952–1994)
- کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیےپانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیےParveen Shakir (1952–1994)
- گونگے لبوں پہ حرف تمنا کیا مجھےکس کور چشم شب میں ستارا کیا مجھےParveen Shakir (1952–1994)
- ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیااس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیاParveen Shakir (1952–1994)
- کچا سا اک مکاں کہیں آبادیوں سے دورچھوٹا سا ایک حجرہ فراز مکان پرParveen Shakir (1952–1994)
- گرچہ لکھی ہوئی تھی شہادت امام کیلیکن میرے حسین نے حجت تمام کیParveen Shakir (1952–1994)
- دشمن کے راستوں کا بھی پتھر ہٹائیں گےہم چلتے پھرتے راہ میں نیکی کمائیں گےZaheer Alam (b. 1952)
- محفل میں جانے کیسے سر عام آ گیاآخر زباں پہ اس کے مرا نام آ گیاB.M Khan Maley (b. 1952)
- طاقت کے سارے زور کو خاموش کر دیاخاموشیوں نے شور کو خاموش کر دیاFaIyaz Rashk (b. 1953)
- اچھا ہوا زبان خموشی نہ تم پڑھےشکوے مرے وگرنہ رلاتے تمہیں بہتDeepak Purohit (b. 1954)
- اکثر مری زمیں نے مرے امتحاں لئےزندہ ہوں اپنے سر پہ کئی آسماں لئےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- کچھ تو محبتوں کی وفائیں نبھاؤں میںشاداب بارشوں کی ہوائیں نبھاؤں میںUsha Bhadoriya (b. 1954)
- وہ آنکھ دے قریب کا سایہ دکھائی دےآواز روشنی کی کہیں تو سنائی دےUsha Bhadoriya (b. 1954)
- ہاتھ آیا آسماں تو زمیں کا نہیں رہاپھر یہ ہوا وہ شخص کہیں کا نہیں رہاZafar Siddiqui (b. 1954)
- دل یاد کرکے اس کو پریشان ہے ابھیلیکن وہ میرے حال سے انجان ہے ابھیdagh Niyazi (b. 1954)
- دریا رکا ہوا تھا مگر میں سفر میں تھااک روشنی کا عکس بھی میرے ہنر میں تھاTahir Hanfi (b. 1955)
- رانی بھی بادشاہ بھی سارے غلام چپکردار ہیں کہانی کے سب آج شام چپTahir Hanfi (b. 1955)
- لاکھوں دنوں کے بوجھ تلے غم رسیدہ لوگاپنی تلاش میں ہیں رواں سر بریدہ لوگTahir Hanfi (b. 1955)
- مجھ کو گلے لگا کے ہوئی زندگی خموشچپکے سے یوں حیات مری چل بسی خموشTahir Hanfi (b. 1955)
- وقت سحر اک ایسی اٹھی روشنی کہ بسجس آنکھ نے بھی دیکھا یوں چندھیا گئی کہ بسTahir Hanfi (b. 1955)
- یخ بستہ باغ میں کوئی تتلی حنوط تھیپھولوں پہ میرے خواب کی مٹی حنوط تھیTahir Hanfi (b. 1955)
- اپنے محافظوں سے ہراساں ہے زندگیاس زندگی کے حال پہ حیراں ہے زندگیEjaz Ansari (b. 1955)
- کھو جاؤں مشت خاک میں ایسا نہیں ہوں میںدریا ہوں اپنی ذات میں قطرہ نہیں ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
- موسم ہرا بھرا ہے یہ منظر بھی دیکھ لےکچھ دیر تازگی میں سنور کر بھی دیکھ لےSaba Bilgrami (b. 1955)
- اسرار کیسے کھول دوں اس آب و گل کے میںمہکا ہوا ہوں رات کی رانی سے مل کے میںYashab Tamanna (b. 1957)
- روتا ہوا وہ بام مجھے یاد ہے ابھیدل میں بکھرتی شام مجھے یاد ہے ابھیYashab Tamanna (b. 1957)
- کچھ بھی نہیں ہے پاس مرے اب سوائے یادشعلہ سا جل رہا ہے در دل متاع یادYashab Tamanna (b. 1957)
- موجود تھے وہ میرے ہی اندر کھلے ہوئےمجھ پر دعا کے بعد کھلے در کھلے ہوئےYashab Tamanna (b. 1957)
- کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیاآئینہ کوئی تم کو دکھاتا نہیں ہے کیاObaid Siddiqi (1957–2020)
- نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہتاس کاروبار دل نے خسارا کیا بہتObaid Siddiqi (1957–2020)
- اے سر پھری ہوا تجھے اس کی خبر بھی ہےتو جس طرف چلی ہے ادھر میرا گھر بھی ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کب تک رہے گا شب کا سفر دیکھنا یہ ہےہے کتنی دور اور سحر دیکھنا یہ ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- امن و امان پیار کی سوغات چاہئےخوابوں کو نیند نیند کو بھی رات چاہئےSabeen Yunus (b. 1957)
- مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہوکر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہوSaadullah Shah (b. 1958)
- بے سمت راستوں پہ صدا لے گئی مجھےآہٹ مگر جنوں کی بچا لے گئی مجھےIffat Zarrin (b. 1958)