جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملا

Parveen Kumar Ashk (b. 1951)

جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملا

وہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملا

غم کی ہر اک کتاب میں تھا درج میرا نام

رکھا ہوا میں ہر در و دیوار پر ملا

تلوار کی طرح تھی ہوا تیز راہ میں

پتا بچا نہ ایک بھی ثابت شجر ملا

لاکھوں کا قتل کر کے بھی وہ مطمئن نہ تھا

آخر وہ اپنے خوں میں مجھے تر بہ تر ملا

تو حال زندگی کا مری جان جائے گا

بس ایک بار میری نظر سے نظر ملا

ہر ایک پھول پر تھی ترے آنسوؤں کی اوس

قطرہ مرے لہو کا ہر اک شاخ پر ملا