محفل میں جانے کیسے سر عام آ گیا

B.M Khan Maley (b. 1952)

محفل میں جانے کیسے سر عام آ گیا

آخر زباں پہ اس کے مرا نام آ گیا

میں نے چھپا کے رکھا تھا جو دل میں راز عشق

خط میں قبول لکھ کے وہ پیغام آ گیا

کیسے کہوں فلک میں تجھے کتنا خوش ہوں آج

یہ دیکھ لے دعاؤں کا انعام آ گیا

ساقی سے آنکھوں آنکھوں میں خالی اشارتاً

کہنے کی دیر تھی کہ بھرا جام آ گیا

قاتل کا پردہ فاش کیا جبکہ میں نے خود

مجھ پر ہی حیف قتل کا الزام آ گیا

اب کچھ نہ ہوگا جاگ کے غفلت کی نیند سے

سورج غروب ہونے لب بام آ گیا

صیاد کے بغیر معالےؔ نہ رہ سکا

گھر لوٹ کر پرندہ سر شام آ گیا