Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf
مجتث مثمن مخبون محذوف- ستارہ وار جلے پھر بجھا دئے گئے ہمپھر اس کے بعد نظر سے گرا دئے گئے ہمIftikhar Arif (b. 1943)
- سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- فضا میں وحشت سنگ و سناں کے ہوتے ہوئےقلم ہے رقص میں آشوب جاں کے ہوتے ہوئےIftikhar Arif (b. 1943)
- وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھیمیں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھیIftikhar Arif (b. 1943)
- بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئیIftikhar Arif (b. 1943)
- یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیایہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میںIftikhar Arif (b. 1943)
- نتیجہ سن کے کئی لوگ بد حواس ہوئےخدا کا شکر ہے ہم امتحاں میں پاس ہوئےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- وہ تیری یاد کے لمحے ترے خیال کے دنعلاج درد کے زخموں کے اندمال کے دنRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- مشاہدہ نہ کوئی تجربہ نہ خواب کوئیتمام شعر و سخن حرف اجتناب کوئیYaqoob Rahi (b. 1943)
- ستا رہی ہے بہت مچھلیوں کی باس مجھےبلا رہا ہے سمندر پھر اپنے پاس مجھےEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوںہوا کی طرح میں ہر پل نئے مکان میں ہوںEhtisham Akhtar (b. 1944)
- کبھی نشیب میں تھا اور کبھی فراز میں تھایہ آبشار محبت دلوں کے راز میں تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- گو چاہتا تھا بہت پر یہ مجھ سے ہو نہ سکامیں ارض دل میں محبت کا بیج بو نہ سکاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- ہزاروں سال سے میں جس کے انتظار میں تھاوہ عکس خواب تو میرے ہی اختیار میں تھاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھیمیں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیںسفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
- دماغ ڈوبتے مہتاب سا لگے ہے مجھےکروں جو یاد تو سب خواب سا لگے ہے مجھےQamar Iqbal (1944–1988)
- یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہےاتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنیQamar Iqbal (1944–1988)
- یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیںبھٹک رہے ہیں مگر تیری جستجو بھی نہیںQamar Iqbal (1944–1988)
- کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہاخلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہاJaved Akhtar (b. 1945)
- میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیںترا تو کوئی خدا ہے مرا خدا بھی نہیںJaved Akhtar (b. 1945)
- پھر ایک داغ چراغ سفر بناتے ہوئےنکل پڑے ہیں نئی رہگزر بناتے ہوئےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جواز کیا ہے کہ اس شہر کی تباہی نہ ہوجہاں کسی نے بھی رسم وفا نباہی نہ ہوJaleel 'Aali' (b. 1945)
- سبیل سجدۂ نا مختتم بناتے ہوئےخدا تک آئے ہیں کیا کیا صنم بناتے ہوئےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- مجھے خوشی ہے مری اس سے رسم و راہ نہیںوہ شخص دل سے کسی کا بھی خیر خواہ نہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاںدیے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاںNaseer Turabi (1945–2021)
- رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہواگئے دنوں کی رتوں کا زیاں ثواب ہواNaseer Turabi (1945–2021)
- صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوایہ وار مجھ پہ ہوا بھی تو غائبانہ ہواNaseer Turabi (1945–2021)
- وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھیNaseer Turabi (1945–2021)
- مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیںکہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیںYaqoob Tasawwur (b. 1945)
- کئی دنوں سے اسے مجھ سے کوئی کام نہیںیہی سبب ہے کہ مجھ سے دعا سلام نہیںHabeeb Kaifi (b. 1945)
- حصار تنگ زمیں تنگ آسمان بھی تنگہمارے سر پہ ہوا گھر کا سائبان بھی تنگM. K. Asar (b. 1945)
- جلا وطن ہوں مرا گھر پکارتا ہے مجھےاداس نام کھلا در پکارتا ہے مجھےIftikhar Naseem (1946–2011)
- یہ کون مجھ کو ادھورا بنا کے چھوڑ گیاپلٹ کے میرا مصور کبھی نہیں آیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- امیر شہر اس اک بات سے خفا ہے بہتکہ شہر بھر میں سگ درد چیختا ہے بہتZafar Sahbai (b. 1946)
- رکھا ہے بزم میں اس نے چراغ کر کے مجھےابھی تو سننا ہے افسانے رات بھر کے مجھےZafar Sahbai (b. 1946)
- وہ بیکلی ہے کوئی راستہ سجھائی نہ دےوہ شور ہے کہ خود اپنی صدا سنائی نہ دےBadr Jameel (b. 1946)
- اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شامنہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شامMohsin Naqvi (1947–1996)
- لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھیمیں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھیMohsin Naqvi (1947–1996)
- نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروںتو کھو گیا ہے کہاں اب تجھے تلاش کروںMohsin Naqvi (1947–1996)
- ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہواکہ پیرہن تو گیا تھا بدن بھی چاک ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
- خزاں کے دوش پہ ہے فصل گل کا رخت ابھیکہ برگ و بار سے خالی ہے ہر درخت ابھیJafar Baluch (b. 1947)
- طریق کہنہ پہ اب نظم گلستاں نہ رہےمری بہار کو اندیشۂ خزاں نہ رہےJafar Baluch (b. 1947)
- وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھابشر بھی خیر نہ ہوگا مگر خدا بھی نہ تھاJafar Baluch (b. 1947)
- ہر ایک حال میں چلنے سے جس کو کام رہاوہ شخص قاعد یاران تیزگام رہاJafar Baluch (b. 1947)
- بجز متاع دل لخت لخت کچھ بھی نہیںمری نگاہ میں تدبیر و بخت کچھ بھی نہیںRaeesuddin Raees (b. 1948)
- تمام شہر میں ہے عام کاروبار ہوسکہ چہرے چہرے پہ چسپاں ہے اشتہار ہوسRaeesuddin Raees (b. 1948)
- سفر یہ میرا عجب امتحان چاہتا ہےبلا کے حبس میں بھی بادبان چاہتا ہےRaeesuddin Raees (b. 1948)
- نظر میں خود کو بسا دو تو کوئی بات بنےوفا کے پھول کھلا دو تو کوئی بات بنےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- ستم کے بعد بھی باقی کرم کی آس تو ہےوفا شعار نہیں وہ وفا شناس تو ہےDanish Farahi (1949–2023)