Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- جب کسی لائق نہیں ہم جب کسی قابل نہیںموت بہتر ایسے جینے سے تو کچھ حاصل نہیںصفدر مرزا پوری
- سب سے بہتر ہے کہ مجھ پر مہرباں کوئی نہ ہوہم نشیں کوئی نہ ہو اور رازداں کوئی نہ ہوزین العابدین خاں عارف
- مرغ زیرک عقل کا ہے عشق کا صیاد شوخعقل ہے بسیار شیریں عشق کا فرہاد شوخعلیم اللہ
- یار کے درسن کے خاطر جان اور تن بھول جامکھ منور دیکھ اس کا رنگ گلشن بھول جاعلیم اللہ
- پارسا تو پارسائی پر نہ کر اتنا غرورمیں اگر بندہ ہوں عاصی پر مرا مولیٰ غفورقاسم علی خان آفریدی
- جب کسی نے آن کر دل سے مرے پرخاش کیبات تب عاشق گری کی میں جہاں میں فاش کیقاسم علی خان آفریدی
- جس طرح کوچے میں تیرے پھرتے ہیں ہم بر طرفاے ستم گاری ہماری طرز ہیں کم بر طرفقاسم علی خان آفریدی
- چھانتا ہے خاک کیا تو گھر بنانے کے لیےفکر رہنے کی نہ کر آیا ہے جانے کے لیےخواجہ محمد وزیر
- میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیںزیر پا آیا فلک اور بارہا سر پر زمیںخواجہ محمد وزیر
- جی بھرا آتا ہے خالی مے کا پیالہ دے گیادیکھیو کیا آج ہم کو شوخ بالا دے گیامرزا جواں بخت جہاں دار
- چپکے چپکے کون یہ دل پر کرم فرمائے ہےدرد سے تسکین ملتی ہے سکوں تڑپائے ہےBadr Shamsi
- یوں بچھڑ جاؤں گا تم سے میں نے یہ سوچا نہ تھاقربتوں میں فاصلوں کا کوئی اندازہ نہ تھاBadr Shamsi
- کوشش پیہم کو سعیٔ رائیگاں کہتے رہوہم چلے اب تم ہماری داستاں کہتے رہواختر انصاری اکبرآبادی
- غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیاخوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جان جاں مارا گیاامداد امام اثر
- جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاساٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاسبیخود موہانی
- بے خودی میں ہے نہ وہ پی کر سنبھل جانے میں ہےلطف پائے یار پر جو لغزشیں کھانے میں ہےCharkh Chinioti
- ایک مرد با صفا تھا ڈاکٹر ذاکر حسیننیک دل فرماں روا تھا ڈاکٹر ذاکر حسینCharkh Chinioti
- چل رہا ہوں پیش و پس منظر سے اکتایا ہواایک سے دن رات کے چکر سے اکتایا ہواEjaz Gul
- جب مرے ہونٹوں پہ میری تشنگی رہ جائے گیتیری آنکھوں میں بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گیTahir Faraz
- تو مرے عکس تصور سے جدا لگتا نہیںفاصلے جو درمیاں ہے فاصلہ لگتا نہیںBaharunnisa Bahar
- جی رہے ہیں اس جہاں میں ایک لاشے کی طرحلوگ ہم کو دیکھتے ہیں اب تماشے کی طرحBaharunnisa Bahar
- لگ رہا ہے آج میرے دل میں ایسا شور ہےہر طرف بادل ہیں کالے اور برپا شور ہےBaharunnisa Bahar
- کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئےوقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئےEhtisham ul Haq Siddiqui
- انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشقآج ہی ہو جائے ہونا ہو جو کل انجام عشقمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھیدل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھیمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہدست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیےیا کہ آیا ہے یہاں تیرے ستانے کے لیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- جاسوس دوستعلی منظور حیدرآبادی
- طور بن کر جل گیا یا شوق موسیٰ ہو گیاہائے وہ دل جو ترے جلوہ کا شیدا ہو گیامنیر بھوپالی
- آنسوؤں سے خون کے اجزا بدلتے جائیں گےدل کے سب ارمان آنکھوں سے نکلتے جائیں گےناطق لکھنوی
- جمع ہیں سارے مسافر نا خدائے دل کے پاسکشتیٔ ہستی نظر آتی ہے اب ساحل کے پاسپنڈت ہری چند اختر
- زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئےگردش ایام و دور آسماں دیکھا کئےپنڈت ہری چند اختر
- سیر دنیا سے غرض تھی محو دنیا کر دیامیں نے کیا چاہا مرے اللہ نے کیا کر دیاپنڈت ہری چند اختر
- میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کریا اسے بھی ایک دو چلو پلا دیوانہ کرپنڈت ہری چند اختر
- پھر بہار آئی مرے صیاد کو پروا نہیںاڑ کے میں پہنچوں چمن میں کیا کروں پر وا نہیںسعادت یار خان رنگین
- چاہ کر ہم اس پری رو کو جو دیوانے ہوئےدوست دشمن ہو گئے اور اپنے بیگانے ہوئےسعادت یار خان رنگین
- غیر کی خاطر سے تم یاروں کو دھمکانے لگےآ کے میرے روبرو تلوار چمکانے لگےسعادت یار خان رنگین
- میری ایذا میں خوشی جب آپ کی پاتے ہیں لوگتو مجھے کس کس طرح سے آ کے دھمکاتے ہیں لوگسعادت یار خان رنگین
- ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیںمیں تو جا سکتا ہوں واں گر یاں وہ آ سکتے نہیںسعادت یار خان رنگین
- عشق سے کچھ کام نے کچھ کوئے جاناں سے غرضگل سے مطلب ہے نہ کچھ خار بیاباں سے غرضواجد علی شاہ
- شکوہ اپنے طالعوں کی نارسائی کا کروںیا گلہ اے شوخ تیری بے وفائی کا کروںبیاں احسن اللہ خان
- لے کے دل اس شوخ نے اک داغ سینے پر دیاجو لیا اس کا عوض اس سے مجھے بہتر دیابیاں احسن اللہ خان
- حصول آزادی کی دقتیںاحمق پھپھوندوی
- حال مرگ بے کسی سن کر اثر کوئی نہ ہوسچ تو یہ ہے آپ سا بھی بے خبر کوئی نہ ہوحسن بریلوی
- انس اپنے میں کہیں پایا نہ بیگانے میں تھاکیا نشہ ہے سارا عالم ایک پیمانے میں تھاآغا شاعر قزلباش
- کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گاکیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گاآغا شاعر قزلباش
- لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیاجس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیاآغا شاعر قزلباش
- آ گئی سر پر قضا لو سارا ساماں رہ گیااے فلک کیا کیا ہمارے دل میں ارماں رہ گیابھارتیندو ہریش چندر
- نیند آتی ہی نہیں دھڑکے کی بس آواز سےتنگ آیا ہوں میں اس پرسوز دل کے ساز سےبھارتیندو ہریش چندر
- لفظ کو الہام معنی کو شرر سمجھا تھا میںدرحقیقت عیب تھا جس کو ہنر سمجھا تھا میںLiaqat Jafri