جب مرے ہونٹوں پہ میری تشنگی رہ جائے گی

Tahir Faraz

جب مرے ہونٹوں پہ میری تشنگی رہ جائے گی

تیری آنکھوں میں بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی

سر پھرا جھونکا ہوا کا توڑ دے گا شاخ کو

پھول بننے کی تمنا میں کلی رہ جائے گی

ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمہارا انتظار

گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی

کیا خبر تھی آئے گا اک روز ایسا وقت بھی

میری گویائی ترا منہ دیکھتی رہ جائے گی

وقت رخصت آئے گا اور ختم ہوگا یہ سفر

میرے دل کی بات میرے دل میں ہی رہ جائے گی