کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے

Ehtisham ul Haq Siddiqui

کوئی تازہ ہو کہ ہو کوئی پرانی چاہئے

وقت کو آگے بڑھانا ہے کہانی چاہئے

تو مری دہلیز پر آ کر ٹھہر جاتا ہے کیوں

تو تو دریا ہے تجھے تو بس روانی چاہئے

ہاتھ میں جس کے بھی دیکھو آگ کا کشکول ہے

اور ہر اک کشکول کو کچھ بوند پانی چاہئے

زندگی اور موت دونوں میں ہے اک رنگ کرم

تم بتاؤ تم کو کس کی مہربانی چاہئے

دل سے مطلب ہے ترے پیکر سے مجھ کو کیا غرض

حکمرانی کو مجھے اک راجدھانی چاہئے