چپکے چپکے کون یہ دل پر کرم فرمائے ہے

Badr Shamsi

چپکے چپکے کون یہ دل پر کرم فرمائے ہے

درد سے تسکین ملتی ہے سکوں تڑپائے ہے

دشمنوں سے پوچھ کر دیکھو تو از راہ خلوص

میرے بارے میں مرے احباب کی کیا رائے ہے

جانے کس عالم میں ہیں احساس کی مجبوریاں

میں بھلاتا ہوں جسے اکثر وہی یاد آئے ہے

یہ متاع بے بدل سب کے مقدر میں کہاں

غم عطا کرنے سے پہلے دل بھی دیکھا جائے ہے

چھیڑ ان تاروں کو لیکن ہاں ذرا آہستہ چھیڑ

یاد جاناں اب تو دل کا ساز ٹوٹا جائے ہے

میرے دل کا حال کوئی پوچھنے والا نہیں

اور میرا دل کہ غیروں کے بھی غم اپنائے ہے

میں نے دیکھا ہے وہ عالم بھی نگاہ شوق کا

جب تری تصویر میں بھی جان سی پڑ جائے ہے

جو مرے دل پر گزرتی ہے کسی کو کیا خبر

دیکھنے والا مری صورت سے دھوکا کھائے ہے

بدرؔ ہر عالم میں ہے عالم وہی پیش نظر

کوئی صورت ہو وہی صورت نظر آ جائے ہے