Poetry
Ramal Musamman Mahzuf
رمل مثمن محذوف- وہ مرا موجوں سے لڑ لڑ کر ابھر کر دیکھنادوستوں کا دور ساحل سے سمندر دیکھناParveen Sultana Saba (b. 1959)
- اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھےہم وہیں کشتی کو لے آئے جہاں طوفان تھےNafas Ambalvi (b. 1961)
- اتنی مشکل میں کبھی پہلے تو جاں آئی نہ تھیاے محبت جب مری تجھ سے شناسائی نہ تھیNafas Ambalvi (b. 1961)
- اک غلط کردار کی پہچان میں مارا گیامیں کہانی میں نہیں عنوان میں مارا گیاNafas Ambalvi (b. 1961)
- دھوپ تھی صحرا تھا لیکن جسم کا سایہ نہ تھاآدمی اس سے زیادہ تو کبھی تنہا نہ تھاNafas Ambalvi (b. 1961)
- مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گیان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گیNafas Ambalvi (b. 1961)
- یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگحادثے کیسے بھی ہوں لیکن گزر جاتے ہیں لوگNafas Ambalvi (b. 1961)
- اب کہاں تک پتھروں کی بندگی کرتا پھروںدل سے جس دم بھی پکاروں گا خدا مل جائے گاNafas Ambalvi (b. 1961)
- جب بھی اس دیوار سے ملتا ہوں رو پڑتا ہوں میںکچھ نہ کچھ تو ہے یقیناً اس میں پتھر سے الگNafas Ambalvi (b. 1961)
- گھر کے اندر بھولی بھالی صورتیں اچھی لگیںمسکراتی گل کھلاتی رونقیں اچھی لگیںObaidur Rahman (1961–2014)
- اور کیا آخر تجھے اے زندگانی چاہیئےآرزو کل آگ کی تھی آج پانی چاہیئےMadan Mohan Danish (b. 1961)
- چلتے رہنے کے لیے دل میں گماں کوئی تو ہوبے نتیجہ ہی سہی پر امتحاں کوئی تو ہوMadan Mohan Danish (b. 1961)
- دیکھنا ہو گر بنا کر کانچ کا گھر دیکھناکون برساتا ہے کس جانب سے پتھر دیکھناDaood Mohsin (b. 1962)
- پیڑ سوکھا حرف کا اور فاختائیں مر گئیںلب نہ کھولے تو گھٹن سے سب دعائیں مر گئیںRafi Raza (b. 1962)
- قربتیں اپنی جگہ ہیں فاصلے اپنی جگہراحتیں اپنی جگہ ہیں حادثے اپنی جگہQaisar Azeez (b. 1962)
- زندگی میں ایسا کتنی بار ہوتا ہے یہاںمنزلوں کا راستہ دشوار ہوتا ہے یہاںPallavi Mishra (b. 1962)
- تیرے پیکر سی کوئی مورت بنا لی جائے گیدل کے بہلانے کی یہ صورت نکالی جائے گیRaees Warsi (b. 1963)
- اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملیڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملیZafar Imam (b. 1963)
- میرے اندر کا غرور اندر گزرتا رہ گیاسر سے پانو تک اترنا تھا اترتا رہ گیاZafar Imam (b. 1963)
- تجھ کو سوچوں میں بسا کر شاعری کرتا ہوں میںذہن و دل کی وادیوں میں روشنی کرتا ہوں میںHafiz Karnataki (b. 1964)
- جب تلک در پیش کوئی حادثہ ہوتا نہیںزندگی کیا ہے ہمیں اس کا پتہ ہوتا نہیںZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کلکس قدر زہریلا انساں ہو رہا ہے آج کلZafar Mahmood zafar (b. 1964)
- جانے ایسی ٹھان کر بیٹھا ہے کیا میرے لئےآج مانگے جا رہا ہے وہ دعا میرے لئےEjaz Quraishi (b. 1964)
- جتنے بھی سورج کے نیزے تھے نکیلے ہو گئےزندگی کی شاخ کے سب پھول پیلے ہو گئےsaabir jauharii (b. 1965)
- کس ہنر مندی سے قتل تیرگی کرتے ہیں لوگمیرا کاشانہ جلا کر روشنی کرتے ہیں لوگsaabir jauharii (b. 1965)
- انقلاب دہر رک رک کر جواں بنتا گیاجو سبک سر تھا وہی سنگ راں بنتا گیاKaleem Ahmadabadi (b. 1966)
- اتنی آسانی سے گر تجھ کو خدا مل جائے گاپھر تو تیری وحشتوں کو حوصلہ مل جائے گاChandra Shekhar Varma (b. 1967)
- دوسروں کی بات آئی تو پیمبر تھا وہ شخصاپنی باری پر محبت سے ہی مرتد ہو گیاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- ریل کی پٹری فسردہ شام تیرا سوٹ کیسپھر سے آنکھوں میں ترے جانے کا منظر آ گیاLatif Shah Shahid (b. 1968)
- باتوں باتوں میں بڑے ہی پیار سے چھڑکا نمکزخم دشمن کی عطا احباب کا تحفہ نمکTabassum Azmi (b. 1968)
- ذہن و دل میں خوف کے جب سرسراتے سانپ ہیںسیدھے خط بھی لگتے جیسے آڑے ترچھے سانپ ہیںTabassum Azmi (b. 1968)
- شہد میں ڈوبے ہوئے کڑوے کریلے مستردجو بھی کہیے صاف کہیے پیچ لچھے مستردTabassum Azmi (b. 1968)
- جب چراغوں کی طرف مائل ہوا ہو جائے گیزندگی جلتے چراغوں کی فنا ہو جائے گیNaeem Badauni (b. 1969)
- زندگی بھر ہم سے مت پوچھو کہ کیا کرتے رہےگردش دوراں کا جم کر سامنا کرتے رہےNaeem Badauni (b. 1969)
- تھی کہاں جرأت کسی میں ہاں مگر اس نے کیادل کے اس خالی مکاں کو آج گھر اس نے کیاJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنےبد دعا میں ہے دعا اس کی دعا کے سامنےJahan Ara Tabassum (b. 1970)
- رابطہ رکھ تیرگی سے روشنی کو چھوڑ دےجو اذیت ناک ہو ایسی خوشی کو چھوڑ دےQamar Anjum (b. 1971)
- شام وعدہ ہے اگر اب بھی نہ وہ آئے تو پھراور اس غم میں جو دھڑکن دل کی رک جائے تو پھرQamar Anjum (b. 1971)
- پھر اٹھایا جاؤں گا مٹی میں مل جانے کے بعدگرچہ ہوں سہما ہوا بنیاد ہل جانے کے بعدIftikhar Raghib (b. 1973)
- اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریںمیں تو چپ ہوں اب مری تنہائیاں باتیں کریںFaisal Azeem (b. 1974)
- ختم ہے بادل کی جب سے سائبانی دھوپ میںآگ ہوتی جا رہی ہے زندگانی دھوپ میںChandni Pandey (b. 1974)
- عمر کے لمبے سفر سے تجربہ ایسا ملادھوپ جب بھی سر پہ آئی لاپتا سایہ ملاChandni Pandey (b. 1974)
- علم و فن کے راز سر بستہ کو وا کرتا ہواوہ مجھے جب بھی ملا ہے ترجمہ کرتا ہواUmair Manzar (b. 1974)
- سوچ لیجے کیوں عذاب آیا تھا قوم ہود پراور پھر کچھ غور کیجے لمحۂ موجود پرJabbar Wasif (b. 1975)
- دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہےپھر سلگنے کو کوئی اک داستاں بے چین ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیااے مری کمبخت سانسو ہائے تم نے کیا کیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- اک ہوا ایسی چلی بگلے بھی کالے ہو گئےچاند کو سردی لگی سورج کو چھالے ہو گئےChand Akbarabadi (b. 1975)
- چاند کی اپنی کہانی رات کا قصہ الگداستان عشق میں ہے تجربہ سب کا الگPankaj Subeer (b. 1975)
- حالت بیمار غم پر جس کو حیرانی نہیںاصل میں اس آدمی میں خوئے انسانی نہیںZafar Ansari Zafar (b. 1976)
- تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پرفیصلہ ہوگا تمہارا آج کی بنیاد پرEhya Bhojpuri (b. 1977)