تجھ کو سوچوں میں بسا کر شاعری کرتا ہوں میں
Hafiz Karnataki (b. 1964)تجھ کو سوچوں میں بسا کر شاعری کرتا ہوں میں
ذہن و دل کی وادیوں میں روشنی کرتا ہوں میں
میں ترا رانجھاؔ تو میری ہیر ہے جان غزل
چھوڑ کر ہر کام تیری چاکری کرتا ہوں میں
اپنے دل کے ہر ورق پر نام لکھ لکھ کر ترا
پیش تجھ کو دھڑکنوں کی ڈائری کرتا ہوں میں
ڈوب کر خوابوں میں تیرے کھو کے تیری یاد میں
روز و شب اپنی خودی کو بے خودی کرتا ہوں میں
اس بلندی پر مجھے لائی ہے تیری عاشقی
بند آنکھوں سے ترا دیدار بھی کرتا ہوں میں
حادثوں میں جھونک دیتا ہوں میں اپنے آپ کو
اس طرح خود سے کبھی خود دل لگی کرتا ہوں میں