Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Musamman Muza'af
بحرِ ہندی/ متقارب مثمن مضاعف- سچے دل سے وعدہ کیا ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہےاس کا کیا ہے بھول گیا ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہےJafar Raza (1939–2022)
- تم سے راہ و رسم بڑھا کر دیوانے کہلائیں کیوںجن گلیوں میں پتھر برسیں ان گلیوں میں جائیں کیوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- بے معنی لا حاصل ردی شعروں کا ہے جال ادھرجو چیزیں بیکار ہیں پیارے ان چیزوں کو ڈال ادھرSaba Naqvi (b. 1940)
- آنکھیں موندے سب کچھ بھولے کب سے یوں ہی بیٹھے ہیںپلکوں پہ کچھ خواب سجائے جاگے جاگے سوئے ہیںHafeez Betab (b. 1941)
- شرمیلے ہیں دولہے راجا یہ معلوم نہ وہ معلومکرتے ہیں دولہن سے پردہ یہ معلوم نہ وہ معلومPagal Adilabadi (1941–2007)
- نوچ لیے ہر شاخ سے پتے بوٹا بوٹا لوٹ لیادست خزاں نے چوری چوری باغ تمنا لوٹ لیاHafeez Shahid (1942–2014)
- حسن کی ریتیں عشق کی رسمیں چھوٹے بچے کیا جانیںشوخ ادائیں مبہم باتیں چھوٹے بچے کیا جانیںEjaz Ahmad Ejaz (b. 1942)
- جس کی خاطر عمر گنوائی اک دنیا کو بھولی میںجی کہتا تھا اس سے کہہ دوں لیکن کیسے کہتی میںRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- اب کے برس پھاگن میں کسی سے ایسی کھیلی ہولی سکھیپریت کے پکے رنگ سے جس نے رنگ دی من کی چولی سکھیZafar Sambhali (b. 1944)
- سینے میں ارمان کی گنگا آنکھوں میں جمنا کا ہے جللیکن دل کے تاج محل میں کوئی نہیں ممتاز محلBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- جسم دمکتا، زلف گھنیری، رنگیں لب، آنکھیں جادوسنگ مرمر، اودا بادل، سرخ شفق، حیراں آہوJaved Akhtar (b. 1945)
- دکھ کے جنگل میں پھرتے ہیں کب سے مارے مارے لوگجو ہوتا ہے سہہ لیتے ہیں کیسے ہیں بے چارے لوگJaved Akhtar (b. 1945)
- کن لفظوں میں اتنی کڑوی اتنی کسیلی بات لکھوںشعر کی میں تہذیب بنا ہوں یا اپنے حالات لکھوںJaved Akhtar (b. 1945)
- مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں جو بھی امی کہتی تھیںجب میرے بچپن کے دن تھے چاند میں پریاں رہتی تھیںJaved Akhtar (b. 1945)
- تھک کر جب بھی بیٹھ گیا ہوں میں پیپل کی چھاؤں میںگوتم آیا گوتم آیا شور مچا ہے گاؤں میںSaba Ikram (b. 1945)
- ایک ہے ایسی لڑکی جس سے تم نے ہنس کر بات نہ کیکبھی نہ دیکھا اس کی آنکھوں میں چمکے کیسے موتیFahmida Riaz (1946–2018)
- اے دل کافر عجز سے منکر آج ترا سر خم کیوں ہےتیری ہٹیلی شریانوں میں یہ بے بس ماتم کیوں ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- تنہا بیٹھا ہوں کمرے میں ماضی کی تصویر لیےاب تو انجانے قدموں کی آہٹ سے جی ڈرتا ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- سبزہ سے سب دشت بھرے ہیں تال بھرے ہیں پانی سےمیرے اندر خالی پن ہے کس کی بے ایمانی سےZafar Sahbai (b. 1946)
- جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوااپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہواMohsin Naqvi (1947–1996)
- آج کسی کی یاد میں ہم جی بھر کر روئے دھویا گھرآج ہمارا گھر لگتا ہے کیسا اجلا اجلا گھرJafar Baluch (b. 1947)
- اک اک کر کے ہو گئے رخصت اب کوئی ارمان نہیںدل میں گہرا سناٹا ہے اب کوئی مہمان نہیںJafar Abbas (1947–2022)
- سر پر سات آکاش زمیں پر سات سمندر بکھرے ہیںآنکھیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں اتنے منظر بکھرے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- کالج کے سب بچے چپ ہیں کاغذ کی اک ناؤ لیےچاروں طرف دریا کی صورت پھیلی ہوئی بیکاری ہےRahat Indori (1950–2020)
- عاجز تھا بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھیاس نے مجھ سے ہاتھ چھڑایا جان چھڑائی میں نے بھیLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہےخوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- جھیل کا درپن روز لجا کر بیل نہارا کرتی ہےپھر چپکے سے لپٹ پیڑ سے زلف سنوارا کرتی ہےKailash Sengar (b. 1951)
- گونگی چیخیں بانجھ بھوک اور اس بے بس سناٹے میںہم نے اپنی غزلیں کھوجیں چولھے چوکے آٹے میںKailash Sengar (b. 1951)
- سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناںدھوپ آنکھوں تک آ پہنچی ہے رات گزر گئی جاناںParveen Shakir (1952–1994)
- ہاتھوں میں کشکول سوالی دھوپ نگر کے باسیسہہ لیتے ہیں سب کی گالی دھوپ نگر کے باسیTahir Hanfi (b. 1955)
- اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی راتپہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی راتPaigham Aafaqi (1956–2016)
- میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہےآہٹ آہٹ یوں لگتا ہے مجھ میں کوئی چلتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)
- یورپ جس وحشت سے اب بھی سہما سہما رہتا ہےخطرہ ہے وہ وحشت میرے ملک میں آگ لگائے گیGauhar Raza (b. 1956)
- منظر روز بدل دیتا ہوں اپنی نرم خیالی سےشام شفق میں ڈھل جاتی ہے رنگ حنا کی لالی سےObaid Siddiqi (1957–2020)
- حسن کی اک چنگاری نے کیا خوب لگائی عشق کی آگرخ پر زلف کا جھونکا آیا اور لہرائی عشق کی آگParveen Sultana Saba (b. 1959)
- موسم خوشبو رنگ دھنک کے منظر سارے اس کے تھےرات کی کالی چھایا میری چاند ستارے اس کے تھےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- جب سے نادانوں نے خود کو فانی کہنا چھوڑ دیاہم نے اپنی حیرت کو حیرانی کہنا چھوڑ دیاNafas Ambalvi (b. 1961)
- آنگن آنگن خون کے چھینٹے چہرہ چہرہ بے چہرہکس کس گھر کا ذکر کروں میں کس کس کے صدمات لکھوںObaidur Rahman (1961–2014)
- گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کابیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کاBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- ساحل پر دریا کی لہریں سجدا کرتی رہتی ہیںلوٹ کے پھر آنے جانے کا وعدا کرتی رہتی ہیںZafar Imam (b. 1963)
- میں ہی دستک دینے والا میں ہی دستک سننے والااپنے گھر کی بربادی پر میں ہی سر کو دھننے والاZafar Imam (b. 1963)
- دیکھو اپنی آنکھ مچولی ایک حقیقت ہو گئی ناتم سے مجھ کو مجھ سے تم کو آج محبت ہو گئی ناHafiz Karnataki (b. 1964)
- دھند میں ڈوبی ساری فضا تھی اس کے بال بھی گیلے تھےجس کی آنکھیں جھیلوں جیسی جس کے ہونٹ رسیلے تھےFaheem Shanas Kazmi (b. 1965)
- سیدھے سادھے لوگ تھے پہلے گھر بھی سادہ ہوتا تھاکمرے کم ہوتے تھے اور دالان کشادہ ہوتا تھاEhtisham Hasan (b. 1969)
- کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رےکیسی ہوگی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رےGhaus Siwani (b. 1969)
- میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیںسب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیںDanish Aziz (b. 1970)
- میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کونہنستا ہے جو سب کے دکھ میں اس کے دکھ میں روئے کونGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- ٹھیک ہوا جو بک گئے سینک مٹھی بھر دیناروں میںویسے بھی تو زنگ لگا تھا پشتینی ہتھیاروں میںAalok Shrivastav (b. 1971)
- دھوپ ہوئی تو آنچل بن کر کونے کونے چھائی اماںسارے گھر کا شور شرابہ سونا پن تنہائی اماںAalok Shrivastav (b. 1971)
- گھر کی بنیادیں دیواریں بام و در تھے بابو جیسب کو باندھ کے رکھنے والا خاص ہنر تھے بابو جیAalok Shrivastav (b. 1971)