جھیل کا درپن روز لجا کر بیل نہارا کرتی ہے
Kailash Sengar (b. 1951)جھیل کا درپن روز لجا کر بیل نہارا کرتی ہے
پھر چپکے سے لپٹ پیڑ سے زلف سنوارا کرتی ہے
بچوں کے کنچوں کی گونجیں ذرا دھیان سے سن لینا
مندر کی گھنٹی ان کی ہی نقل اتارا کرتی ہے
پھل دے دے کر خوش ہو لینا جنوں پرانا پیڑوں کا
پر دنیا ہر پاگل کو پتھر ہی مارا کرتی ہے
لڑکی ہے یا جادو گرنی وہ ہم مورکھ کیا جانیں
جادو سے اپنے ہونٹوں کو جو انگارہ کرتی ہے
نظر نہ لگ جائے ماں کو وہ تب سندر ہو جاتی ہے
جب بھی وہ اپنے بچوں کی نظر اتارا کرتی ہے
ان چٹانی راتوں کو اک روشن تیلی توڑے گی
برسوں سے اک صبح ہمارا نام پکارا کرتی ہے