گونگی چیخیں بانجھ بھوک اور اس بے بس سناٹے میں
Kailash Sengar (b. 1951)گونگی چیخیں بانجھ بھوک اور اس بے بس سناٹے میں
ہم نے اپنی غزلیں کھوجیں چولھے چوکے آٹے میں
سب پر اک اک صبح لٹانے ہم سورج لے بیٹھے تھے
اپنا کیا ہے جو نہ آئے وہ ہی رہ گئے گھاٹے میں
مہک اٹھے تیرے چھونے سے ہم پر سب کو یہی لگا
چندن کی بھی روح چھپی ہے اس ببول کے کانٹے میں
چور اچکوں کے جے کاروں سے گونجے ان کے دورے
اکثر جیبیں کٹیں ہماری ان کے سیر سپاٹے میں
آزادی کی کھاٹ پہ سوئی کھادی کی اجلی نیندیں
گاؤں کی دب گئی سسکیاں دلی کے خراٹے میں
جہاں کہیں بھی کالک دیکھی ہم نے تو بس وار کیا
پر لوگوں کو غزل نظر آتی ہے اپنے چانٹے میں