Poetry
- آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھوزندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھوRahat Indori (1950–2020)
- اب اپنی روح کے چھالوں کا کچھ حساب کروںمیں چاہتا تھا چراغوں کو آفتاب کروںRahat Indori (1950–2020)
- اپنے دیوار و در سے پوچھتے ہیںگھر کے حالات گھر سے پوچھتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- اٹھی نگاہ تو اپنے ہی رو بہ رو ہم تھےزمین آئنہ خانہ تھی چار سو ہم تھےRahat Indori (1950–2020)
- اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوںایسے ضدی ہیں پرندے کہ اڑا بھی نہ سکوںRahat Indori (1950–2020)
- اسے اب کے وفاؤں سے گزر جانے کی جلدی تھیمگر اس بار مجھ کو اپنے گھر جانے کی جلدی تھیRahat Indori (1950–2020)
- اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لےراہ میں تیرگی ہوگی مرے آنسو رکھ لےRahat Indori (1950–2020)
- اندر کا زہر چوم لیا دھل کے آ گئےکتنے شریف لوگ تھے سب کھل کے آ گئےRahat Indori (1950–2020)
- اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگےچراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگےRahat Indori (1950–2020)
- بلاتی ہے مگر جانے کا نئیںوہ دنیا ہے ادھر جانے کا نئیںRahat Indori (1950–2020)
- بیٹھے بیٹھے کوئی خیال آیازندہ رہنے کا پھر سوال آیاRahat Indori (1950–2020)
- بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتےایک سچ کے لئے کس کس سے برائی لیتےRahat Indori (1950–2020)
- بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیےمیں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیےRahat Indori (1950–2020)
- پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہےوہ اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہےRahat Indori (1950–2020)
- تمہارے نام پر میں نے ہر آفت سر پہ رکھی تھینظر شعلوں پہ رکھی تھی زباں پتھر پہ رکھی تھیRahat Indori (1950–2020)
- تیری ہر بات محبت میں گوارا کر کےدل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کےRahat Indori (1950–2020)
- جا کے یہ کہہ دے کوئی شعلوں سے چنگاری سےپھول اس بار کھلے ہیں بڑی تیاری سےRahat Indori (1950–2020)
- جب کبھی پھولوں نے خوشبو کی تجارت کی ہےپتی پتی نے ہواؤں سے شکایت کی ہےRahat Indori (1950–2020)
- جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیںکلاہ طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- جو یہ ہر سو فلک منظر کھڑے ہیںنہ جانے کس کے پیروں پر کھڑے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- چراغوں کا گھرانا چل رہا ہےہوا سے دوستانہ چل رہا ہےRahat Indori (1950–2020)
- چراغوں کو اچھالا جا رہا ہےہوا پر رعب ڈالا جا رہا ہےRahat Indori (1950–2020)
- چمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںہم آسماں سے غزل کی زمین لائے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- چہروں کی دھوپ آنکھوں کی گہرائی لے گیاآئینہ سارے شہر کی بینائی لے گیاRahat Indori (1950–2020)
- حوصلے زندگی کے دیکھتے ہیںچلئے کچھ روز جی کے دیکھتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- دلوں میں آگ لبوں پر گلاب رکھتے ہیںسب اپنے چہروں پہ دوہری نقاب رکھتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- دوستی جب کسی سے کی جائےدشمنوں کی بھی رائے لی جائےRahat Indori (1950–2020)
- رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہےسوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہےRahat Indori (1950–2020)
- روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہےRahat Indori (1950–2020)
- زندگی کو زخم کی لذت سے مت محروم کرراستے کے پتھروں سے خیریت معلوم کرRahat Indori (1950–2020)
- زندگی کی ہر کہانی بے اثر ہو جائے گیہم نہ ہوں گے تو یہ دنیا در بدر ہو جائے گیRahat Indori (1950–2020)
- ساتھ منزل تھی مگر خوف و خطر ایسا تھاعمر بھر چلتے رہے لوگ سفر ایسا تھاRahat Indori (1950–2020)
- سبب وہ پوچھ رہے ہیں اداس ہونے کامرا مزاج نہیں بے لباس ہونے کاRahat Indori (1950–2020)
- سب کو رسوا باری باری کیا کروہر موسم میں فتوے جاری کیا کروRahat Indori (1950–2020)
- سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائےسوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائےRahat Indori (1950–2020)
- سر پر سات آکاش زمیں پر سات سمندر بکھرے ہیںآنکھیں چھوٹی پڑ جاتی ہیں اتنے منظر بکھرے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- سسکتی رت کو مہکتا گلاب کر دوں گامیں اس بہار میں سب کا حساب کر دوں گاRahat Indori (1950–2020)
- سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہےہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہےRahat Indori (1950–2020)
- شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیاکچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیاRahat Indori (1950–2020)
- شجر ہیں اب ثمر آثار میرےچلے آتے ہیں دعویدار میرےRahat Indori (1950–2020)
- شہر کیا دیکھیں کہ ہر منظر میں جالے پڑ گئےایسی گرمی ہے کہ پیلے پھول کالے پڑ گئےRahat Indori (1950–2020)
- صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئےاے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئےRahat Indori (1950–2020)
- صرف سچ اور جھوٹ کی میزان میں رکھے رہےہم بہادر تھے مگر میدان میں رکھے رہےRahat Indori (1950–2020)
- فیصلے لمحات کے نسلوں پہ بھاری ہو گئےباپ حاکم تھا مگر بیٹے بھکاری ہو گئےRahat Indori (1950–2020)
- کالی راتوں کو بھی رنگین کہا ہے میں نےتیری ہر بات پہ آمین کہا ہے میں نےRahat Indori (1950–2020)
- کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیںاور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- کبھی دماغ کبھی دل کبھی نظر میں رہویہ سب تمہارے ہی گھر ہیں کسی بھی گھر میں رہوRahat Indori (1950–2020)
- کہیں اکیلے میں مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسےجہاں جہاں سے وہ ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسےRahat Indori (1950–2020)
- گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہےاب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہےRahat Indori (1950–2020)
- لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیںاتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیںRahat Indori (1950–2020)