Poetry
- آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھیایک ایک پل کی ہم کو خبر اس طرح نہ تھیBashar Nawaz
- بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگBashar Nawaz
- بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیامرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیاBashar Nawaz
- بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئےقرین مصلحت ہے اس کے ہر غم کو خوشی کہیےBashar Nawaz
- جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میںپھنس گیا پھر جسم کے گرداب میںBashar Nawaz
- جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیاان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیاBashar Nawaz
- جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گےایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گےBashar Nawaz
- چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھوکس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھوBashar Nawaz
- چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئےغنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئےBashar Nawaz
- دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہااپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہاBashar Nawaz
- ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوارنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سواBashar Nawaz
- روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گےتم بھی تنگ آ جاؤ گے اک دن ہم بھی اکتا جائیں گےBashar Nawaz
- سارے منظر فسوں تماشا ہیںکل گھٹائیں تھیں آج دریا ہیںBashar Nawaz
- عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہےدل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہےBashar Nawaz
- کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہواس دشت بے کسی میں کوئی آسرا تو ہوBashar Nawaz
- کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئےایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئےBashar Nawaz
- گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیںمیں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیںBashar Nawaz
- ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میراایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میراBashar Nawaz
- یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میںجس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میںBashar Nawaz
- اب کی بار ملو جب مجھ سےپہلی اور بس آخری بارBashar Nawaz
- تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہےBashar Nawaz
- کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گیگزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گیBashar Nawaz
- مجھے خواب اپنا عزیز تھاسو میں نیند سے نہ جگا کبھیBashar Nawaz
- افق تا افق یہ دھندلکے کا عالمیہ حد نظر تکBashar Nawaz
- اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گےاوڑھ لے گی دھواںBashar Nawaz
- ایک رقعہ لکھیںاور یوں لکھیںBashar Nawaz
- پتہ نہیں وہ کون تھاجو میرے ہاتھBashar Nawaz
- تو ایسا کیوں نہیں کہتےکہ یہ سپنے ہی میرے کرب کے ضامن ہیں ان کے ہی سبب سے میںBashar Nawaz
- جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہنرس بھرے سنترے کے چمکدار چھلکے کی مانند اترنے لگے گاBashar Nawaz
- سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہےاپنے جرم پہBashar Nawaz
- مہر ہونٹوں پہسماعت پہ بٹھا لیں پہرےBashar Nawaz
- میں جیسے درد کا موسمگھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میںBashar Nawaz
- نہ پھر وہ میں تھانہ پھر وہ تم تھےBashar Nawaz
- نہیں میں یوں نہیں کہتاکہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیںBashar Nawaz
- دے نشانی کوئی ایسی کہ سدا یاد رہےزخم کی بات ہے کیا زخم تو بھر جائیں گےBashar Nawaz
- وہی ہے رنگ مگر بو ہے کچھ لہو جیسییہ اب کی فصل میں کھلتے گلاب کیسے ہیںBashar Nawaz
- یہ اہتمام چراغاں بجا سہی لیکنسحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سےBashar Nawaz