Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہٹ پہ کان در پہ نظر اس طرح نہ تھیایک ایک پل کی ہم کو خبر اس طرح نہ تھیBashar Nawaz
  2. بازار زندگی میں جمے کیسے اپنا رنگہیں مشتری کے طور نہ بیوپاریوں کے ڈھنگBashar Nawaz
  3. بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصا نکل آیامرے دکھ سے کسی آواز کا رشتا نکل آیاBashar Nawaz
  4. بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئےقرین مصلحت ہے اس کے ہر غم کو خوشی کہیےBashar Nawaz
  5. جانے کیا دیکھا تھا میں نے خواب میںپھنس گیا پھر جسم کے گرداب میںBashar Nawaz
  6. جب چھائی گھٹا لہرائی دھنک اک حسن مکمل یاد آیاان ہاتھوں کی مہندی یاد آئی ان آنکھوں کا کاجل یاد آیاBashar Nawaz
  7. جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گےایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گےBashar Nawaz
  8. چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھوکس درد کو کہتے ہیں وفا تم بھی تو دیکھوBashar Nawaz
  9. چھیڑا ذرا صبا نے تو گلنار ہو گئےغنچے بھی مہ جمالوں کے رخسار ہو گئےBashar Nawaz
  10. دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہااپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہاBashar Nawaz
  11. ربط ہر بزم سے ٹوٹے تری محفل کے سوارنجشیں سب کی گوارا ہیں ترے دل کے سواBashar Nawaz
  12. روز کہاں سے کوئی نیاپن اپنے آپ میں لائیں گےتم بھی تنگ آ جاؤ گے اک دن ہم بھی اکتا جائیں گےBashar Nawaz
  13. سارے منظر فسوں تماشا ہیںکل گھٹائیں تھیں آج دریا ہیںBashar Nawaz
  14. عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہےدل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہےBashar Nawaz
  15. کوئی صنم تو ہو کوئی اپنا خدا تو ہواس دشت بے کسی میں کوئی آسرا تو ہوBashar Nawaz
  16. کیا کیا لوگ خوشی سے اپنی بکنے پر تیار ہوئےایک ہمیں دیوانے نکلے ہم ہی یہاں پر خوار ہوئےBashar Nawaz
  17. گھٹتی بڑھتی روشنیوں نے مجھے سمجھا نہیںمیں کسی پتھر کسی دیوار کا سایا نہیںBashar Nawaz
  18. ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میراایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میراBashar Nawaz
  19. یہ حسن ہے جھرنوں میں نہ ہے باد چمن میںجس حسن سے ہے چاند رواں نیل گگن میںBashar Nawaz
  20. اب کی بار ملو جب مجھ سےپہلی اور بس آخری بارBashar Nawaz
  21. تمہارے روز و شب سے اب کوئی نسبت نہیں لیکنتمہارا عکس ہر لمحے کے آئینے میں ملتا ہےBashar Nawaz
  22. کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گیگزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گیBashar Nawaz
  23. مجھے خواب اپنا عزیز تھاسو میں نیند سے نہ جگا کبھیBashar Nawaz
  24. افق تا افق یہ دھندلکے کا عالمیہ حد نظر تکBashar Nawaz
  25. اور پھر دونوں فانوس سینے کے بجھ جائیں گےاوڑھ لے گی دھواںBashar Nawaz
  26. ایک رقعہ لکھیںاور یوں لکھیںBashar Nawaz
  27. پتہ نہیں وہ کون تھاجو میرے ہاتھBashar Nawaz
  28. تو ایسا کیوں نہیں کہتےکہ یہ سپنے ہی میرے کرب کے ضامن ہیں ان کے ہی سبب سے میںBashar Nawaz
  29. جب کسی تمتماتے ہوئے جسم کا سرسراتا ہوا پیرہنرس بھرے سنترے کے چمکدار چھلکے کی مانند اترنے لگے گاBashar Nawaz
  30. سنو تمہارا جرم تمہاری کمزوری ہےاپنے جرم پہBashar Nawaz
  31. مہر ہونٹوں پہسماعت پہ بٹھا لیں پہرےBashar Nawaz
  32. میں جیسے درد کا موسمگھٹا بن کر جو بس جاتا ہے آنکھوں میںBashar Nawaz
  33. نہ پھر وہ میں تھانہ پھر وہ تم تھےBashar Nawaz
  34. نہیں میں یوں نہیں کہتاکہ یہ دنیا جہنم اور ہم سب اس کا ایندھن ہیںBashar Nawaz
  35. دے نشانی کوئی ایسی کہ سدا یاد رہےزخم کی بات ہے کیا زخم تو بھر جائیں گےBashar Nawaz
  36. وہی ہے رنگ مگر بو ہے کچھ لہو جیسییہ اب کی فصل میں کھلتے گلاب کیسے ہیںBashar Nawaz
  37. یہ اہتمام چراغاں بجا سہی لیکنسحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سےBashar Nawaz