نہ پھر وہ میں تھا

Bashar Nawaz

نہ پھر وہ میں تھا

نہ پھر وہ تم تھے

نہ جانے کتنی مسافتیں درمیاں کھڑی تھیں

اس ایک لمحے کے آئینے پر

نہ جانے کتنے برس پریشان دھول کی طرح سے جمے تھے

جنہیں رفاقت سمجھ کے ہم دونوں مطمئن تھے

اس ایک لمحے کے آئینے میں

جب اپنے اپنے نقاب الٹ کر

خود اپنے چہروں کو ہم نے دیکھا

تو ایک لمحہ

وہ ایک لمحے کا آئینہ کتنی صدیوں کتنے ہزار میلوں کی شکل میں

درمیاں کھڑا تھا

نہ پھر وہ میں تھا نہ پھر وہ تم تھے

بس ایک ویراں خموش صحرا بس ایک ویراں خموش صحرا