یہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے
Vala Jamal Al Aseeliیہی صدا مجھے اکثر سنائی دیتی ہے
سکون کس کو بتوں کی خدائی دیتی ہے
وہ آدمی جو ہمیشہ مرے خلاف رہا
اسی کی مجھ پہ حکومت دکھائی دیتی ہے
محبتیں ہی سکھاتی ہیں ہر سبق لیکن
بہت سے درس ہمیں بے وفائی دیتی ہے
یہ انگلیاں ہی قلم بن کے چلنے لگتی ہیں
یہ چشم نم ہی مجھے روشنائی دیتی ہے
کسی کے عشق نے یوں دل کو کر دیا روشن
کہ روشنی سی ہر اک سو دکھائی دیتی ہے
سلوک ایک سا کرتی نہیں ہے الفت بھی
ملن کسی کو کسی کو جدائی دیتی ہے
نہیں ہے دور مری روح کے قریب ہے وہ
جھلک اسی کی تو مجھ میں دکھائی دیتی ہے
نہ ایسی دنیا سے امید اے ولاؔ رکھنا
جو نیکیوں کے صلے میں برائی دیتی ہے