اپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہم
Geeta Thakur Raushniاپنا تمہیں جو کہہ اٹھے دیوانہ وار ہم
کچھ بے قرار آپ تھے کچھ بے قرار ہم
قائم ہیں پھول خار سے گلشن کی رونقیں
حسن بہار آپ ہیں درد بہار ہم
دنیائے حسن و عشق کے اسرار کھل گئے
اپنے الم کے جب سے ہوئے رازدار ہم
اڑتی ہے خاک جیسے ہواؤں کے ساتھ ساتھ
پہنچے ہیں منزلوں پہ یوں مثل غبار ہم
پر نور جس کے نور سے شام الم ہوئی
اس روشنیؔ کو ڈھونڈتے ہیں بے قرار ہم