افسانۂ حیات کو دہرا رہے ہیں ہم

Geeta Thakur Raushni

افسانۂ حیات کو دہرا رہے ہیں ہم

اپنے کئے کی آپ سزا پا رہے ہیں ہم

اے چشم یار تیری نگاہوں کا شکریہ

اب زندگی و موت کو بہلا رہے ہیں ہم

چھیڑا تھا ہم نے ذکر کسی بزم ناز کا

کہنے لگے وہ ہنس کے چلو آ رہے ہیں ہم

یہ رہ گزر ہے کون سی کچھ سوجھتا نہیں

اے بے خودی بتا کہ کہاں جا رہے ہیں ہم

چھیڑا جو ہم نے راہ میں زاہد نے یہ کہا

پھر آج میکدے کی طرف جا رہے ہیں ہم

تاریک رہ گزر نے بڑے فخر سے کہا

اب روشنیؔ کے گیت غزل گا رہے ہیں ہم