باتوں میں تو اختیار شیرینی کر

آسی الدنی

باتوں میں تو اختیار شیرینی کر

اظہار نیاز و عجز و مسکینی کر

خواہش ہو جو آنکھوں میں جگہ پانے کی

اے مردم دیدہ ترک خود بینی کر